Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
188 - 603
(1723)…حضرت ِ سیِّدُنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے لوگوںنے عرض کی: ’’اگر آپ ہمارے ساتھ بیٹھاکریں توکتنااچھا ہو؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اگر ایک لمحہ کے لئے بھی میرا دل موت کی یاد سے غافل ہوجائے تو مجھ پر فساد طاری ہوجاتا ہے۔‘‘  (۱)
(1724)…حضرت ِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے جب تہبند باندھنا شرو ع کیا اس وقت سے کسی مجلس میں نہیں بیٹھے اور فرمایا: ’’میں ڈرتا ہوں کہ کسی پر ظلم کیا جائے اور میں اس کی مدد نہ کرسکوں یاکوئی کسی پر زیادتی کرے اور مجھے اس پر گواہی دینے کا پابند کیا جائے، (مجلس میں بیٹھ کر) نہ نگاہ نیچی رکھ سکوں اور نہ ہدایت پر قائم رہ سکوںیا کوئی بوجھ اٹھانے والا گر جائے اور میں بوجھ اٹھانے میں اس کی مددنہ کرسکوں (اسی خوف کے پیش نظر میں نے بیٹھنا ترک کردیا)۔‘‘  (۲)
کسرنفسی:
(1725)…حضرت ِ سیِّدُنا منذر ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیت الخلا وغیرہ کی صفائی خود ہی کیاکرتے تھے۔ عرض کی گئی: ’’یہ کام توکوئی اور بھی کرسکتاہے آپ کیوں کرتے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’مجھے پسند ہے کہ کام کاج میں میرا بھی حصہ شامل ہو۔‘‘  (۳)
آدھی روٹی کا ثواب:
(1726)…حضرت ِ سیِّدُنا حفص بن عمر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سائل کو ایک روٹی سے کم نہ دیتے اور فرماتے: ’’مجھے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے حیا آتی ہے کہ کل بروزِقیامت میزان عمل میں آدھی روٹی (کاثواب) دیکھوں۔‘‘  (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۰۳، الربیع بن خثیم، ج۳، ص۴۱۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام ربیع بن خثیم، الحدیث:۱۵، ج۸، ص۲۰۹۔
3…الزہد لوکیع، باب الخدمۃ والتواضع، الحدیث:۴۹۱، الجرء الاول (ب)، ص۸۰۲۔
4…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۰۳، الربیع بن خثیم، ج۳، ص۴۲۔