Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
187 - 603
اطاعت ِ رسول اطاعت ِ الٰہی ہے:
(1720)…حضرت ِ سیِّدُنا منذر ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’ایک بات ہے اور وہ یہ ہے کہ جس نے رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم مانا بے شک اس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم مانا۔‘‘  (۱)
بادشاہ، مسکین، طبیب اور ملک الموت:
(1721)…حضرت ِ سیِّدُنا حصین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’مجھے ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام اور تین قسم کے لوگوں پر بڑا تعجب ہوتا ہے: (۱)…بادشاہ پر جو اپنی حفاظت کے لئے قلعے میں رہتا ہے لیکن ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام وہاں بھی اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور بادشاہت دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔(۲)…مسکین پر جو راستے میں بے حال پڑا ہوتا ہے اور میل کچیل کی وجہ سے لوگ اس کے قریب جانا پسند نہیں کرتے جبکہ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام میل کچیل کے باوجود اس کے پاس آکر اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور میل کچیل وہیں رہ جاتاہے اور (۳)…علمِ طب میں کامل مہارت رکھنے والے طبیب پر کہ (وہ لوگوں کا تو علاج کرتا ہے لیکن) ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام اس کی بھی روح قبض کرلیتے ہیں اور طب وہیں رہ جاتی ہے۔‘‘  (۲)
(1722)…حضرت ِ سیِّدُنا غسان بن مفضل غلابی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کویہ کہتے سنا کہ ایک بار حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے ایک شاگرد کے ساتھ اہوازکے مقام پر قیام فرما تھے کہ ایک عورت انہیں اشارے سے بدکاری کے لئے بلانے لگی۔ (اس کی اس حرکت پر) آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ رونے لگے۔ شاگرد نے رونے کی وجہ پوچھی توفرمایا: ’’یہ عورت بوڑھوں میں دلچسپی لینے لگی ہے کیا اس نے مجھ جیسے بوڑھے نہیں دیکھے؟‘‘  (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الدرالمنثور، سورۃالنسائ، تحت الایۃ:۸۰، ج۲، ص۵۹۸۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام ربیع بن خثیم، الحدیث:۱۷، ج۸، ص۲۰۹، بتقدم وتاخر۔
	بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب، ج۳، ص۴۷۱۔
3…مسند ابن الجعد، الحدیث:۳۱۷۶، الربیع بن صبیح، ص۴۶۱، بتغیر قلیل۔