Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
185 - 603
اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ جب سجدہ کرتے تو یوں لگتا جیسے کوئی پھینکا ہوا کپڑا ہو، چڑیاں آتیں اور ان پر بیٹھ جاتیں۔‘‘  (۱)
وہ مقتول کون ہے؟
(1714)…حضرت ِ سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں: ہمیں خبر ملی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی والدہ ماجدہ انہیں (رات بھرعبادت میں مشغول پاتیں تو) فرماتیں: ’’اے بیٹے ربیع! تم سوتے کیوں نہیں؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ عرض کرتے: ’’اے امی جان! جس پر رات چھا جائے اور اسے خود پر شب خون مارے جانے کاخوف ہو تو اسے چاہئے کہ رات کو نہ سوئے۔‘‘کچھ دیر بعد جب والدہ نے رونے کی آواز سنی اور شب بیداری دیکھی تو کہا: ’’اے بیٹے! (تیرا رونا تو ایسا ہے کہ) شاید تو نے کسی کو قتل کیا ہو؟‘‘ حضرت سیِّدُنا ربیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع نے عرض کی: ’’جی ہاں، اے امی جان! (ایساہی ہے) میں نے کسی کو قتل کیا ہے۔‘‘ والدہ نے پوچھا: ’’وہ مقتول کون ہے؟ کہ اس کے ورثاء سے سفارش کی جائے تاکہ وہ تمہیں معاف کردیں۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر اسے قتل کرنے کے بعد اس کے ورثاء کو اس پر تمہاری آہ وزاری اور شب بیداری کرنا معلوم ہوجائے تووہ تم پر رحم کرتے ہوئے ضرور تمہیں معاف کردیں۔‘‘ عرض کی: امی جان! ’’وہ مقتول میرا نفس ہے۔‘‘  (۲)
اچانک عذاب آنے کاخوف:
(1715)…حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ِ سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کو فرماتے سناکہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی صا حب زادی نے ان سے عرض کی: ’’اے اباجان! لوگ سورہے ہوتے ہیں آپ کیوں نہیں سوتے؟‘‘ فرمایا: ’’بیٹی رات میں اچانک عذاب کے آجانے کاخوف تیرے والد کو سونے نہیں دیتا۔‘‘  (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۲۰۰۵، زہد محمد بن سیرین، ص۳۴۱۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۹۷، زہد محمد بن سیرین، ص۳۴۰۔
3…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۷۹، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۸، بتغیر۔
	شعب الایمان،باب فی الخوف من اللّٰہ تعالی، الحدیث:۹۸۴، ج۱، ص۵۴۳، باختصار۔