ہوئے ہی کیوں نہ آئے۔‘‘ (۱)
فقط رحمت الٰہی پر تکیہ نہ کرو!
(1709)…حضرت ِ سیِّدُنا ابویعلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’بندے کا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر قسمیں کھانا اچھا نہیں ہے کہ وہ یوں کہتا پھرے: اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! (بندوں پر) رحم فرمانا تو نے اپنی ذات پر لازم کررکھاہے۔ فلاں چیزتونے اپنے ذمہ لے کررکھی ہے۔ کیونکہ اس طرح بندہ سستی کا شکار ہو جاتا (اور نیک اعمال میں کمی کربیٹھتا) ہے۔ (اس کے برعکس) میں نے آج تک کسی کو یہ کہتے نہیں سناکہ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! مجھ پر جو چیز لازم تھی اسے میں نے اداکردیا، لہٰذا جوچیز تونے اپنے ذمہ لے رکھی ہے اسے پورا فرما۔‘‘ (۲)
(1710)…حضرت ِ سیِّدُنا بکر بن ماعز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’موت کو کثرت سے یاد کرو جس کا ذائقہ تم نے ابھی تک چکھا نہیں۔‘‘ (۳)
(1711)…حضرت ِ سیِّدُنا ابویعلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’غائب اشیاء میں موت سے بہتر کوئی چیز نہیں جس کا مومن منتظر ہو۔‘‘ (۴)
(1712)…حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی زوجہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت ِ سیِّدُنا ربیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع کی موت کاوقت قریب آیا توان کی صاحب زادی رونے لگی۔ آپ نے فرمایا: ’’اے بیٹی رو مت! بلکہ یوں کہو: خوشخبری کہ میرے والد بھلائی کو پہنچے۔‘‘ (۵)
(1713)…قبیلہ اسلم کا ایک شخص صبح سویرے مسجدآیاکرتاتھا اس کا بیان ہے کہ ’’حضرت ِ سیِّدُنا ر بیع بن خثیم رَحْمَۃُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۹۵، زہد محمد بن سیرین، ص۳۴۰۔
الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۱۱۷، الربیع بن خثیم، ج۶، ص۲۲۵۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۸۴، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۹۔
3…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۱۱۷، الربیع بن خثیم، ج۶، ص۲۲۰۔
4…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۸۵، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۹۔
5…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۷۲، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۷۔