Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
183 - 603
 لگے: ’’اے گوشت پوست! اے خون! جب پہاڑوں کو چلایا جائے گا تو اس وقت تیرا کیا حال ہوگا۔‘‘(پھریہ آیت ِ مقدسہ تلاوت فرمائی:) کَلَّاۤ اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا ﴿ۙ۲۱﴾ وَّ جَآءَ رَبُّکَ وَ الْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا ﴿ۚ۲۲﴾وَجِایۡٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَہَنَّمَ ۬ۙ (پ۳۰، الفجر:۲۱تا۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان: ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار در قطار اور اس دن جہنم لائی جائے۔  (۱)
باجماعت نماز کا جذبہ:
(8-1707)…حضرت ِ سیِّدُنا ابوحیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان اپنے والد سے راویت کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فالج زدہ تھے لیکن پھربھی دوآدمیوں کے سہارے (باجماعت نمازکے لئے) مسجد میں تشریف لاتے۔ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے شاگران سے کہتے: ’’اے ابویزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ (جیسے مریضوں) کو رخصت دی ہے، لہٰذآپ گھرپر ہی نمازپڑھ لیا کریں (۱)۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے: ’’تم درست کہتے ہو۔ لیکن میں مؤذن کو حَیَّ عَلَی الْفَلَاح (یعنی آؤ کامیابی کی طرف) کہتے سنتا ہوں اور جو مؤذن کو حَیَّ عَلَی الْفَلَاح کہتے سنے تو اسے چاہئے کہ باجماعت نماز کے لئے مسجد میں حاضر ہو اگرچہ سرین کے بل گھسٹتے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۴۴، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۴۔
2…ترکِ جماعت کے اعذار: دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃالمدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد اول صفحہ583 پر صدرالشریعہ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں: (۱)…مریض جسے مسجد تک جانے میں مُشقّت ہو (۲)…اپاہج (۳)…جس کا پاؤں کٹ گیا ہو (۳)…جس پر فالج گرا ہو (۴)…اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہے (۵)…اندھا اگرچہ اندھے کے لیے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے (۶)…سخت بارش اور (۷)…شدید کیچڑ کا حائل ہونا (۸)…سخت سردی (۱۰)…سخت تاریکی (۱۱)…آندھی (۱۲)…مال یا کھانے کے تلف (یعنی ضائع) ہونے کا اندیشہ(۱۳)…قرض خواہ کا خوف ہے اور یہ تنگ دست ہے (۱۴)…ظالم کا خوف (۱۵)…پاخانہ (۱۶)…پیشاب (۱۷)…ریاح کی حاجت شدید ہے (۱۸)…کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو (۱۹)…قافلہ چلے جانے کا اندیشہ ہے (۲۰)…مریض کی تیمارداری کہ جماعت کے لیے جانے سے اس کو تکلیف ہوگی اور گھبرائے گا، یہ سب ترک جماعت کے لیے عذر ہیں۔