Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
182 - 603
اَمْ حَسِبَ الَّذِیۡنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ نَّجْعَلَہُمْ کَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَآءً مَّحْیَاہُمۡ وَ مَمَاتُہُمْ ؕ سَآءَ مَا یَحْکُمُوۡنَ ﴿۲۱﴾ (پ۲۵، الجاثیۃ:۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان: کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کردیں گے جوایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ اِن کی اُن کی زندگی اور موت برابر ہوجائے کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں۔
	توبکثرت گریہ وزاری کے سبب ساری رات اسے ہی دہراتے رہے آگے نہ پڑھ سکے۔‘‘  (۱)
{1704}…حضرت ِ سیِّدُنا ربیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع کے ایک شاگرد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُناربیع بن خثیم  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے زلفیں رکھی ہوئی تھیں شام کے وقت جب گھرتشریف لے جانے لگتے توہم ان کے بالوں میں نشانی رکھ لیتے۔ جب صبح ہوتی تو وہ نشانی جوں کی توں ہوتی اس سے ہم پہچان جاتے کہ آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ ساری رات بستر پر نہیں لیٹے (یعنی ساری رات عبادت میں بسرکی)۔‘‘  (۲)
(1705)…حضرت ِ سیِّدُنا عاصم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے حضر ت سیِّدُناربیع بن خثیم  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے پوچھا کہ ’’آپ کے ہم نشیں توشعر پڑھتے ہیں آپ کیوں نہیں پڑھتے؟‘‘ فرمایا: ’’جو چیز پڑھی جائے گی اسے لکھا بھی جائے گا اور میں یہ پسند نہیں کرتا کہ قیامت کے دن اپنے نامہ اعمال میںلکھے ہوئے اشعار پڑھوں۔‘‘  (۳)
اُس وقت تمہارا کیا حال ہوگا؟
(1706)…حضرت ِ سیِّدُنا ابن مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ ایک بار سنبلانی (روم کے کسی شہرکی طرف منسوب) قمیص زیب تن کئے ہوئے تھے جس کی قیمت تین یا چاردرہم ہوگی، (ایسا لچکدار کپڑا تھا کہ) اگرآستینوں کوکھینچتے تو ناخنوں تک پہنچ جاتیں اور لٹکتی چھوڑتے تو کلائیوں تک آجاتیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے جب قمیص کی سفید رنگت دیکھی تو فرمایا: ’’اے عبید! اپنے رب کے لئے تواضع ختیار کرو!‘‘ پھر کہنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۲۵، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۱۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۲۷، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۱۔
3…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۱۱۷، الربیع بن خثیم، ج۶، ص۲۲۲۔