وثواب عطا فرمانے والا ہے۔ رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًا وَّبِمُحَمَّدٍ نَّبِیًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا(یعنی میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے رب ، حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں) میں اپنے اوراپنی اطاعت کرنے والوں کے لئے اس بات کو پسند کرتاہوں کہ عبادت کرنے والوںاورحمدوثنابجالانے والوںمیں میرابھی شمارہو نیزتمام مسلمانوں کو بھی اس کی وصیت کرتا ہوں۔‘‘ (۱)
موت کوکثرت سے یادکرو!
(1701)…حضرت ِ سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’تم بھلائی کے ذریعے ہی رحمت الٰہی کو حاصل کرسکتے ہو اور اس موت کو کثرت سے یاد کرو جس کا ذائقہ تم نے پہلے کبھی نہیںچکھا کیونکہ جب کوئی زیادہ عرصہ غائب رہے تو اس کی محبت لازم (یعنی محبت میں زیادتی) ہوجاتی، گھروالے اس کے منتظررہتے اور عنقریب وہ ان کے پاس آنے ہی والا ہوتا ہے۔‘‘ (۲)
دھوکے میں نہ رہنا:
(1702)…حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن منذر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اے منذر!‘‘ میں نے عرض کی: ’’میںحاضر ہوں۔‘‘ فرمایا: ’’لوگوں کا کثرت سے تیری تعریف کرنا تجھے دھوکے میں مبتلا نہ کردے کیونکہ تیرا عمل ہی تیرے کام آئے گا۔‘‘ (۳)
ساری رات عبادت میں گزارتے:
(1703)…حضرت ِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن عجلان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے ایک رات حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس گزاری۔ آپ رات میں اٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت ِ مبارکہ پرپہنچے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۶۴، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۷۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۱۱۷، الربیع بن خثیم، ج۶، ص۲۲۰، بتقدم وتاخر۔
3…بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب، ج۳، ص۴۷۱۔