عطافرما اور اگر فقیر ہے تو اسے غنی کردے۔‘‘ (۱)
(1697)…حضرت سیِّدُنا ہبیرہ بن خزیمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت کی خبر حضرت سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس سب سے پہلے میں لایا۔‘‘
سیِّدُناربیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع کا صبروتحمل:
(1698)…حضرت ِ سیِّدُنا بلال بن منذر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ (حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت کے دن) ایک شخص نے کہا: ’’اگر میں آج کے دن بھی ربیع بن خثیم کی غلطی نہ نکال سکا تو پھر کبھی کسی کے سامنے ان کی غلطی نہ نکال سکوں گا۔‘‘ چنانچہ، اس نے کہا: ’’اے ابویزید! حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھا پھر یہ آیت ِ مقدسہ تلاوت فرمائی: قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ اَنۡتَ تَحْکُمُ بَیۡنَ عِبَادِکَ فِیۡ مَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخْتَلِفُوۡنَ ﴿۴۶﴾ (پ۲۴، الزمر:۴۶)
ترجمۂ کنزالایمان: تم عرض کرو اے اللّٰہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے نہاں (پوشیدہ) اور عیاں (ظاہر) کے جاننے والے تو اپنے بندو ں میں فیصلہ فرمائے گا جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے۔
اس شخص نے کہا: ’’آپ اس بارے میںکیافرماتے ہیں؟‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’میں کیا کہوں گا؟ انہوں (یعنی قتل کرنے والوں) نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی طرف لوٹناہے اور وہی ان سے حساب لے گا۔‘‘ (۲)
سیِّدُنا ربیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع کی وصیت:
(1699-1700)…حضرت ِ سیِّدُنا منذر ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے وقت وصال وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ وہ وصیت ہے جسے میں نے خود پر لازم کررکھا ہے اور میں اس پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو گواہ بناتاہوں اور بطورِگواہ وہی کافی ہے۔ (اعمالِ صالحہ پر) اپنے نیک بندوں کووہی بدلہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۳۶، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۲۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۴۲، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۳۔