تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’نوچیزوں کے علاوہ کلام کم کیاکرو: (۱)…سُبْحَانَ اللّٰہ (۲)…اللّٰہُ اَکْبَر (۳)…لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ (۴)…اَلْحَمْدُلِلّٰہ (۵)…بھلائی طلب کرنا (۶)…برائی سے پناہ مانگنا (۷)…بھلائی کاحکم دینا (۸)…برائی سے منع کرنا اور(۹)…تلاوت قرآن کرنا۔‘‘ (۱)
زبان کا قفلِ مدینہ:
(89-1688)…حضر ت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ’’ہم نے 20سال حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی صحبت میں گزارے لیکن انہیں صرف وہی بات کرتے سناجس میں آخرت کافائدہ ہو۔‘‘ ایک شخص کا بیان ہے کہ ’’میں دوسال حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی صحبت میں رہا لیکن انہوں نے مجھ سے دوباتوں کے علاوہ کوئی بات نہیںکی۔‘‘ (۲)
(1690)…حضرت ِ سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ قبیلہ بنو تیم اللّٰہ کے ایک شخص کابیان ہے کہ میں نے10سال حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی صحبت اختیارکی لیکن انہیںدوبار کے علاوہ دنیاوی امور کے متعلق سوال کرتے نہیں سنا۔ ایک بار مجھ سے پوچھا: ’’کیاتمہاری والدہ زندہ ہیں؟‘‘ اور دوسری بار پوچھا: ’’تمہارے علاقے میں کتنی مساجد ہیں؟‘‘ (۳)
نار جہنم کا خوف:
(1691)…حضرت ِ سیِّدُنا بکر بن ماعز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ایک مرتبہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم اور حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا دریائے فرات کے کنارے چلتے ہوئے لوہاروں کے پاس سے گزرے۔ حضرت سیِّدُناربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے جب بھٹی کی آگ دیکھی توبے ہوش ہوکر گرپڑے۔ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کی طر ف پلٹے اورانہیں آوازدی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۱۱۷، الربیع بن خثیم، ج۶، ص۲۲۱۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۱۱۷، الربیع بن خثیم، ج۶، ص۲۲۱، باختصار۔
الزہد للامام ہناد بن السری، الحدیث:۱۱۱۱، الجزء الاول، ص۵۳۷۔
3…الزہد للامام ہناد بن السری، الحدیث:۱۱۱۱، الجزء الاول، ص۵۳۷۔