Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
176 - 603
 ’’نہیں۔‘‘ فرمایا: ’’بیماری گناہ، استغفار دوا اور شفا یہ ہے کہ گناہ سے ایسی پکی سچی توبہ کرو کہ پھراس کی طرف نہ لوٹو۔‘‘  (۱)
(1682)…حضرت ِ سیِّدُنا نسیر بن ذعلوق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اس قدر روتے کہ داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہوجاتی اور فرماتے: ’’ہم نے ایسے لوگوں (یعنی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن) کو دیکھا ہے جن کے پہلوؤں میں ہم چوروں کی طرح رہتے تھے (یعنی جب ہم ان کے مقابلے میں خود کو دیکھتے اور ان کے اعمال سے اپنے اعمال کاموازنہ کرتے تو خود کو عمل کا چور سمجھتے )۔‘‘  (۲)
(1683)…حضرت ِ سیِّدُنا عبد الصمد بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ِ سیِّدُنا فضیل بن عیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَہَّاب کوفرماتے سناکہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بارگاہِ الٰہی میں یوں عرض کرتے: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں اپنی حاجت تیری بارگاہ میں ہی پیش کرتا ہوں حالانکہ اسے پیش کرنا میں اچھانہیں سمجھتا میں اس کی معافی چاہتا اور تو بہ کرتا ہوں۔‘‘  (۳)
(1684)…حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن منذر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جو شخص اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتا ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی ہتھیلی میں لکھ دیتا ہے کہ یہ بندہ عذاب سے امن میں ہے۔‘‘
(86-1685)…حضرت ِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے عرض کی گئی: ’’اے ابویزید ! آپ نے صبح کس حال میں کی؟‘‘ فرمایا: ’’کمزوری وگناہوں کی حالت میں صبح کی اپنا رزق کھارہے اور موت کے منتظرہیں۔‘‘  (۴)
9چیزوں کی کثرت کرو!
(1687)…حضرت ِ سیِّدُنا امام ابن سیر ین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۸۳، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۹۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۷۶، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۸۔
3…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۰۳، الربیع بن خثیم، ج۳، ص۴۳، باختصار۔
4…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۱۱۷، الربیع بن خثیم، ج۶، ص۲۲۱۔