مرض عصیاں کی دوا:
(1679)…حضرت ِ سیِّدُنا منذر ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس جب بھی کوئی شخص کچھ پوچھنے کے لئے آتاتواس سے فرماتے: ’’جوکچھ تم جانتے ہواس کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور جو چیز تم سے مخصوص کر (یعنی روک)لی جائے اسے اس کے جاننے والے کے سپرد کردو کیونکہ مجھے تمہاری خطاکی بجائے جان بوجھ کرکسی معاملے میںپڑنے کازیادہ خوف ہے۔ میں نے آج تمہارے لئے کسی بھلائی کومنتخب نہیں کیا لیکن یہ آنے والے شر سے بہتر ہے۔ تم نے نہ توبھلائی کی اتباع کاحق ادا کیا، نہ لوگو ں سے راہ فرار اختیار کرنے کا، تم نہ تو اس تمام کو پاسکے ہو جو پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازل ہوا اور نہ ہی جو کچھ تم پڑھتے ہواس کے متعلق یہ جانتے ہوکہ یہ کیاہے؟‘‘ پھرفرمایا: ’’وہ راز (گناہ) جو تم لوگو ں سے چھپاتے ہو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں ایک وادی میںپڑے ہیں ان کی دوا تلاش کرو اور ان کی دوا ایسی تو بہ ہے کہ جس کے بعد دوبارہ ان کی طر ف نہ لوٹو۔‘‘ (۱)
(1680)…حضرت ِ سیِّدُنا بکربن ماعز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضر ت سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے مجھ سے فرمایا: ’’اے بکر بن ماعز! ضروری گفتگوکے علاوہ اپنی زبان کی حفاظت کرو۔ بے شک میں اپنے دین کے معاملے میں لوگو ں کومتہم جانتا ہوں۔ تم اپنے علم کے مطابق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرواور جن امور کا علم تم سے مخصوص کر (یعنی روک) لیاجائے اسے اس کے جاننے والے کے سپرد کردو کیونکہ مجھے تمہاری خطا کی بجائے جان بوجھ کر کسی معاملے میں پڑنے کا زیادہ خوف ہے۔‘‘ (۲)
بیماری، دوا اور شفا:
(1681)…حضرت ِ سیِّدُنا عبدالملک بن اصبہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ ایک بار حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اپنے تلامذہ سے پوچھا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ بیماری ، دوا اور شفا کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کی:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۸۰، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۸۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۴۹، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۵، باختصار۔