Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
174 - 603
(1675)…حضرت ِ سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’ہروہ عمل جس کے ذریعے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا وخوشنودی مطلوب نہ ہووہ مردود ہے۔‘‘  (۱)
سب سے زیادہ متقی وپرہیزگار:
(1676)…حضرت ِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کے سامنے حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے شاگردوں کاتذکرہ کیاگیاتوانہوں نے فرمایا: ’’حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے تمام شاگردوں میں سب سے زیادہ متقی وپرہیزگار تھے۔‘‘  (۲)
(1677)…حضرت ِ سیِّدُنا مالک بن مِغْوَل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت ِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’میں تمہارے سامنے حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے شاگردوں کے اوصاف بیان کرتاہوں تمہیں ایسا معلوم ہوگاگویاکہ تم نے انہیں دیکھاہے۔ (ان کے شاگردوں میں سے) حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ زہد وتقویٰ میں سب سے فائق تھے۔‘‘  (۳)
کفایت کرنے والی سورت:
(1678)…حضرت ِ سیِّدُنا منذر ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’قرآنِ مجیدکی ایک سورت ایسی ہے کہ جسے لوگ مختصر خیال کرتے ہیں جبکہ میں اسے طویل وعظیم سمجھتا ہوں۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اس نے ہمیں ایسی سورت عطا فرمائی ہے جس کا کوئی ہم پلا نہیں، لہٰذا تم میں سے جو بھی اس کی تلاوت کرے گاتو وہ اس کے مضامین سے جامع کسی چیز کو نہیں پائے گا اور یہ بھی جان لوکہ یہ کفایت کرنے والی ہے اوروہ سورۂ اخلاص ہے۔‘‘  (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۱۱۷، الربیع بن خثیم، ج۶، ص۲۲۲، ’’لایبتغی‘‘ بدلہ ’’لایراد‘‘۔
	الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۶۳، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۶۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۳۷۰، مسروق بن عبدالرحمن، ج۵۷، ص۴۰۹۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۳۷۰، مسروق بن عبدالرحمن، ج۵۷، ص۴۱۱۔
4…فضائل القرآن لمحمد بن الضریس، الحدیث:۲۵۲، ج۱، ص۲۷۸، باختصار۔