والوں کوخوشخبری ہو! اگر حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمہیں دیکھ لیتے تو ضرور تم سے محبت فرماتے۔‘‘ حضرت ِسیِّدُنا ابویزید ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی تعریف وتوصیف بیان کرنے کے بعد (بطورِ نصیحت) فرماتے: ’’(اے انسان!) سفرآخرت کے لئے زادراہ کا بندوبست کر، نیک اعمال میں خوب کوشش کر اورنفس کو نصیحت کرتارہ۔‘‘ (۱)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تَوجانتاہے:
(1673)…حضرت ِ سیِّدُنا منذر ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ ایک بارحضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا: ’’میرے لئے خبیص (یعنی کھجور اور گھی کا حلوہ) بنا لاؤ۔‘‘ چنانچہ، وہ حلوہ تیار کرکے لائے تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے ایک دیوانے کوجس کے منہ سے لعاب بہہ رہاتھا کھانے کے لئے بلالیا اسی حالت میں اس نے کھانا شروع کردیا۔ جب وہ کھا کر چلا گیا تواہل خانہ نے کہا: ’’اسے تیار کرنے میںہم نے کتنی تکلیف و مشقت اٹھائی دیوانے کو کیامعلوم کہ یہ کیا کھارہاہے۔‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اسے تو نہیں معلوم لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تَوجانتاہے۔‘‘ (۲)
نیکیاں چھپاؤ!
(1674)…حضرت ِ سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی زوجہ محترمہ نے بتایا کہ ’’حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کا تمام عمل پوشیدہ ہوتا تھا حتی کہ اگر تلاوت قرآن میں مصروف ہوتے اورکوئی ملنے آجاتا تو مصحف شریف کو کپڑے سے ڈھانپ لیتے (تاکہ وہ دیکھ نہ لے)۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۰۳، الربیع بن خثیم، ج۳، ص۳۷۔
الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۱۱۷، الربیع بن خثیم، ج۶، ص۲۲۱-۲۱۹، مفہومًا۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۱۱۷، الربیع بن خثیم، ج۶، ص۲۲۴۔
3…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۴۳، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۴۔
صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۰۳، الربیع بن خثیم، ج۳، ص۳۸۔