نہ کوئی طبیب باقی رہانہ مریض:
(1671)…حضرت ِ سیِّدُنا محاربی بن عبدالملک بن عمیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ (بیمارہوئے تو) عرض کی گئی: ’’کیاآپ کے لئے کسی طبیب کو بلا لائیں؟‘‘ فرمایا: ’’مجھے کچھ مہلت دو۔‘‘ چنانچہ، کچھ دیر غور وفکرکرنے کے بعد یہ آیت ِ مقدسہ تلاوت فرمائی: وَعَادًا وَّ ثَمُوۡدَا۠ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًۢا بَیۡنَ ذٰلِکَ کَثِیۡرًا ﴿۳۸﴾ (پ۱۹، الفرقان:۳۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں کو اور ان کے بیچ میں بہت سی سنگتیں۔
پھر ان کی دنیا پر حرص و رغبت کاتذکرہ کیااور دیگر برائیاں بیان کیں اورفرمایا: ’’ان میں طبیب بھی تھے اور مریض بھی۔ اب نہ تومجھے علاج کرنے والے نظرآتے ہیں اورنہ ہی علاج کرانے والے۔ صفات بیان کرنے والے اور جن کی صفات بیان کی گئی سب ہلاک ہوگئے، لہٰذا مجھے کسی طبیب کی ضرورت نہیں۔‘‘ (۱)
(1672)…حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ بن مرثد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ آٹھ افراد ایسے ہیں جو زہد وتقویٰ کے اعلیٰ مرتبے پر فائزتھے۔ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بھی ان میں سے ایک ہیں۔ جب ان پر فالج کا حملہ ہواتو ان سے کہا گیا کہ ’’آپ علاج کروالیں (ممکن ہے کہ تندرست ہوجائیں)۔‘‘ فرمایا: ’’مجھے معلوم ہے کہ دوا حق ہے لیکن مجھے قوم عاد، ثمود، کنوئیں والے اور دیگر امتیں یاد آتی ہیں۔ان میں بھی بیماریاں واقع ہوئی تھیں۔ بڑے بڑے طبیب موجودتھے لیکن نہ علاج کرنے والے باقی رہے نہ علاج کرانے والے۔‘‘ ان کی خدمت میں عرض کی گئی: ’’آپ لوگوں کو کوئی نصیحت کیوں نہیں کرتے؟‘‘ فرمایا: ’’میں اپنے نفس سے ہی راضی نہیں ہوں۔ اس کی مذمت سے فرصت ملے گی تو لوگوں کی مذمت کروں گا۔ لوگ دوسروں کے گناہوں کے معاملے میں تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے ہیں لیکن اپنے گناہوں کے معاملے میں بے خوف ہیں۔‘‘ پوچھاگیا: ’’آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے صبح کس حال میں کی؟‘‘ فرمایا: ’’گناہوں کی حالت میں صبح کی اپنا رزق کھا رہے اورموت کے منتظرہیں۔‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی حضرت سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو دیکھتے تو فرماتے: ’’عاجزی وانکساری کرنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام ربیع بن خثیم، الحدیث:۱۹، ج۸، ص۲۱۰۔