علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: باطن کواچھے اعمال سے مزین کرنے اور ظاہر میں گناہوں سے بچنے کا نام تصوُّف ہے۔
آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ضرور تم سے محبت فرماتے:
(1668)…حضرت ِ سیِّدُنا ابوعبیدہ بن عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملاقات کے لئے جاتے توجب تک دونوں بات چیت کرکے فارغ نہ ہوجاتے تب تک کسی کو ان کے پاس آنے کی اجازت نہ ہوتی۔ ایک بار حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے فرمایا: ’’اے ابویزید! اگر پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمہیں دیکھ لیتے تو ضرور تم سے محبت فرماتے۔ میں جب بھی تمہیں دیکھتاہوں توعاجزی اختیار کرنے والوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔‘‘ (۱)
(1669)…حضرت ِ سیِّدُنا حماد بن ابی سلیمان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو دیکھتے تو خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں اپنے پہلو میں بٹھالیتے اور فرماتے: ’’اے ابویزید! اگر مصطفیٰ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمہیں دیکھ لیتے تو ضرور تم سے محبت فرماتے۔‘‘ (۲)
وہ مجھ سے بہتر ہے:
(1670)…حضرت ِ سیِّدُنا یاسین زیات رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ابن کواء نے حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس آکر کہا: ’’مجھے کسی ایسے شخص کے بارے میں بتائیے جو آپ سے بہتر ہو؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’وہ شخص مجھ سے بہتر ہے جس کی گفتگو ذکر خدا، خاموشی فکر آخرت اورآگے بڑھنا انجام میں غور وخوض کرنا ہو۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۱۱۷، الربیع بن خثیم، ج۶، ص۲۱۹۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۱۱۷، الربیع بن خثیم، ج۶، ص۲۱۹، باختصار۔
بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب، ج۳، ص۴۶۳۔
3…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۹۵۳، زہد محمد بن سیرین، ص۳۳۵۔