Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
170 - 603
ہے جو گدھے سے بھی بدتر ہے اور اس کی نماز ہے جو لاچار (مجبور) ہو، لہٰذاتم میں سے جواس زمانے کوپائے تو وہ وقت پر نماز پڑھ لے پھر (فتنے سے بچنے کے لئے) بطورِنفل ان کے ساتھ نماز میں شریک ہوجائے۔‘‘  (۱)
تائیدونصرت الٰہی:
(1667)…حضرت ِ سیِّدُنا اسود بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: اگر علما علم کومحفوظ رکھتے اور اسے اہل ہی پر پیش کرتے (تواس کی برکت سے اپنے زمانہ والوں کے سردار ہو جاتے) مگر انہوں نے علم دنیا داروں کے لیے خرچ کیا تاکہ اس سے ان کی دنیا کمائیں (اس سے وہ ان پرہلکے ہوگئے)۔ میں نے حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ’’جو تمام غموں کو ایک (آخرت کا) غم بنالے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے (آخرت کے) غموں سے کافی ہوگا اور جسے دنیا کے غم ہر طرف لئے پھریں تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی پروا بھی نہ کرے گا کہ کون سے جنگل میں ہلاک ہوا (۲)۔‘‘  (۳)
حضرتِ سیِّدُنا ابویزید ربیع بن خُثیْم
رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرت سیِّدُنا ابویزید ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بھی ان آٹھ تابعین میں سے ہیںجو زہد وتقویٰ کے اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ عاجز وپرہیزگار، (آخرت کے معاملات میں) خوب غور وخوض کرنے والے، صابر وشاکر، ظاہر وباطن میں شریعت کے پابند، گناہوں پر پشیمان اور رحمت الٰہی کے امیدوار تھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۰۲۰۶، ج۱۰، ص۱۳۱۔
2…مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃالمناجیح، جلد1، صفحہ223 پر ’’اگر علما علم کو محفوظ رکھتے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: علم کو ذلت اور اہانت سے بچاتے اس طرح کہ خود طمع اور لالچ میں دنیاداروں کے دروازے پر دھکے نہ کھاتے کہ عالم کی ذلت سے علم کی ذلت ہے اور علم کی بے حرمتی دین کی ذلت ہے۔’’اسے اہل ہی پر پیش کرتے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: قدردانوں اور شریف الطبع لوگوں کو علم سکھاتے۔ ’’سردار ہوجاتے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں:اس طرح کہ بادشاہ ان کے قدموں کے نیچے اور ان کے احکام ان کے قلموں کے نیچے ہوتے ہیں رب کا وعدہ ہے وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ  (پ۲۸،المجادلۃ:۱۱، ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا)۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۵۷۳، عبداللّٰہ بن مسعود، ج۳۳، ص۱۷۴، بتغیر الفاظ۔