Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
169 - 603
سیِّدُنا اسود عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الصَّمَد 
سے مروی اَحادیث
بلاؤں سے حفاظت کا ذریعہ:
(1664)…حضرت ِ سیِّدُنا اسودبن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ مدینے کے تاجدار، باذن پروردگاردوعالم کے مالک ومختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے اموال کو زکوٰۃ کی ادائیگی کے ذریعے محفوظ کرلو، صدقہ کے ذریعے اپنے مریضوں کا علاج کرو اور دعا کے ذریعے مصائب وآلام کاسامناکرو۔‘‘  (۱)
خُلقِ سرکار کی ایک جھلک:
(1665)…حضرت ِ سیِّدُنا اسود عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب بارگاہِ رسالت میں قیدی لائے جاتے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سارے گھروالوں کو ایک ساتھ رکھتے اوران میں جدائی ڈالنے کو ناپسند فرماتے تھے (۲)۔‘‘  (۳)
نمازوں کی حفاظت کرو!
(1666)…حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ اور حضرت ِ سیِّدُنا اسود رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِمکہ مکرمہ، سلطانِ مدینہ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’عنقریب کچھ ایسے امرا ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کریں گے، انہیں وقت گزار کرپڑھیں گے یہ ایسے شخص کی نماز 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۰۱۹۶، ج۱۰، ص۱۲۸۔
2…مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃالمناجیح، جلد5، صفحہ173 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: یہ عمل شریف اس صورت میں تھاکہ ان قیدیوں میں بعض بہت چھوٹے ناسمجھ بچے ہوتے کہ جدائی ڈالنے سے ان کی پرورش مشکل ہوجاتی اور ماں کو تکلیف ہوتی۔ جوان لونڈی غلاموں میں علیحدگی کرنا جائزہے، اس سے تکلیف نہیں ہوتی۔
3…سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب النھی عن التفریق، الحدیث:۲۲۴۸، ج۳، ص۶۹۔