الصَّمَد کثرت سے عبادت کیاکرتے تھے۔ ایک دن لوگ شدیدگرمی سے بے حال ہو رہے تھے جبکہ انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور گرمی کے سبب چہرے کا رنگ متغیرہورہاتھا۔ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ ان کے پاس آئے، ان کی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: ’’اے ابوعمرو! اپنے جسم کے معاملے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے کیوں نہیں ڈرتے؟ اسے اس قدر تکلیف میں مبتلا کیوں کرتے ہو؟‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا اسود عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد نے فرمایا: ’’اے ابو شبل! بے شک (حساب و کتاب کا) معاملہ بڑا سخت ہے۔ بے شک معاملہ بڑا سخت ہے۔‘‘ (۱)
(1660)…حضرت ِ سیِّدُنا علی بن مدرک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ِ سیِّدُنا اسود بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد روزے سے تھے۔ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے ان سے کہاکہ ’’آپ اپنے جسم کو اس قدر تکلیف میں مبتلاکیوں کرتے ہیں؟‘‘فرمایا: ’’میںاسے (آخرت میں) راحت وآرام پہنچانے کے ارادے سے ایسا کرتا ہوں۔‘‘ (۲)
(1661)…حضرت ِ سیِّدُنا حَنَش بن حارث عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَارِث فرماتے ہیں کہ ’’میں نے حضرت ِ سیِّدُنا اسود عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد کو اس حال میں دیکھاکہ بکثرت روزے رکھنے کے سبب ان کی آنکھوں کی بنائی جاتی رہی۔‘‘ (۳)
(1662)…حضرت ِ سیِّدُنا عمارہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ِ سیِّدُنا اسود بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد راہب (یعنی تارک الدنیا) تھے۔‘‘ (۴)
(1663)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں کہ میں جب بھی حضرت ِ سیِّدُنا اسود عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد کو دیکھتا تو کہتا کہ یہ توکوئی راہب ہیں۔ جب نماز کا وقت آتا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نماز میں مشغول ہو جاتے اگرچہ چٹان پر ہی کیوں نہ ہوتے۔‘‘(۵)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۳۷۹، الاسود بن یزید، ج۳، ص۱۴۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۱۹۷۶، الاسود بن یزید، ج۶، ص۱۳۴-۱۳۵۔
3…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۱۹۷۶، الاسود بن یزید، ج۶، ص۱۳۴۔
4…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۳۷۹، الاسود بن یزید، ج۳، ص۱۵۔
5…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۱۹۷۶، الاسود بن یزید، ج۶، ص۱۳۵، باختصار۔