جلدباز کے برابر پہنچ جاتے تھے۔‘‘ (۱)
جنتی:
(1656)…حضرت ِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ’’کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جنت کے لئے پیدا کیا گیاہے۔ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ، حضرت ِ سیِّدُنا اسود اور حضرت ِ سیِّدُنا عبدالرحمن رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی انہیں میں سے ہیں۔‘‘ (۲)
اُخروی راحت پر دنیاوی آرام قربان:
(1657)…حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ بن مرثد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ آٹھ افراد ایسے ہیں جوزہد و تقویٰ کے اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے۔ حضرت سیِّدُنااسود بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد بھی ان میں سے ایک ہیں۔ خوب جدوجہد سے عبادت کرنے اور مسلسل روزے رکھنے کے سبب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کا جسم متغیر (یعنی سبز وزردی مائل) ہوجاتا۔ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ بن قیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ ان سے کہتے کہ ’’آپ اپنے جسم کو اس قدرآزمایش میں مبتلاکیوں کرتے ہیں؟‘‘ فرماتے: ’’میں اسے (آخرت میں) راحت وآرام پہنچاناچاہتاہوں۔‘‘ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو رو پڑے۔ عرض کی گئی: ’’یہ جزع وفزع کیسی؟‘‘ فرمایا: ’’میں کیوں نہ روؤں اور مجھ سے زیادہ رونے کا حق دار کون ہے؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگرمجھے بخش دیا گیا توپھر بھی جو کچھ میں نے کیا ہے اس کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے حیا کی فکر دامن گیر رہے گی۔ کیونکہ اگرکوئی شخص کسی کے حق میں کوئی چھوٹی سی حق تلفی کرلے اوروہ معاف کردے تو پھر بھی یہ (حق تلفی کرنے والا) صاحب حق سے حیا کرتا رہتا ہے۔‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا اسود بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد نے80حج کئے تھے۔ (۳)
معاملہ بڑاسخت ہے!
(59-1658)…حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن بشیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ اور حضرت ِ سیِّدُنا اسود بن یزید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا حج کے لئے تشریف لے گئے۔ حضرت ِ سیِّدُنا اسود عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۷۵۷، علقمۃ بن قیس، ج۴۱، ص۱۷۷، بتقدم وتاخر۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۷۶۱، عبدالرحمن بن اسود، ج۳۴، ص۲۳۴۔
3…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۳۷۹، الاسود بن یزید، ج۳، ص۱۴۔
الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۱۹۷۶، الاسود بن یزید، ج۶، ص۱۳۴-۱۳۵۔