Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
166 - 603
حضرتِ سیِّدُنا اَسود بن یزید نَخَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی
	حضرت سیِّدُنا اسود بن یزید نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بھی تابعین میں سے ہیں۔ آپ اعتدال پسند قاری ٔقرآن، بکثرت روزے رکھنے والے، جلیل القدر فقیہ اور محبت الٰہی میں گرفتار درویش صفت انسان تھے۔
دو راتوں میں ختم قرآن:
(1652)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ِ سیِّدُنا اسودبن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد رمضان المبارک میں دو راتوں میں پورا قرآن پڑھتے اور صرف مغرب وعشا کے درمیان آرام فرماتے تھے اور رمضان المبارک کے علاوہ چھ راتوں میں ختم قرآن کیا کرتے تھے۔‘‘  (۱)
80حج وعمرے:
(1653)…حضرت ِ سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ِ سیِّدُنا اسود بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد نے 80کے قریب حج وعمرے کئے تھے۔‘‘  (۲)
(1654)…حضرت ِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے حضرت ِ سیِّدُنا اسودبن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد کے بارے میں پوچھاگیاتوفرمایا: ’’حضرت ِ سیِّدُنا اسود عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد  روزہ دار، نماز کے پابند اور ہر سال حج کیا کرتے تھے۔‘‘  (۳)
(1655)…حضرت ِ سیِّدُنا ابن عون  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے پوچھا: ’’حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ افضل ہیں یا حضرت ِ سیِّدُنا اسود عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد؟‘‘ تو انہوں نے فرمایا: ’’حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ افضل ہیں کیونکہ حضرت ِ سیِّدُنا اسود عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد اگرچہ ہرسال حج کرتے تھے لیکن حضرت سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ آہستہ آہستہ کام کرکے بھی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۱۹۷۶، الاسود بن یزید، ج۶، ص۱۳۶-۱۳۷، بتغیر قلیل۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۱۹۷۶، الاسود بن یزید، ج۶، ص۱۳۵، ’’حج‘‘ بدلہ ’’طاف بالبیت‘‘۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۷۵۷، علقمۃ بن قیس، ج۴۱، ص۱۷۷۔