عَنْہ بیان کرتے ہیں: ایک بارسرکارِمدینہ، راحت ِقلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چٹائی پر آرام فرما تھے کہ چٹائی کا اثر جسم اطہر پر ظاہر ہوگیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’میرا دنیاسے کیاتعلق، دنیامیں میری مثال اس مسافرکی طرح ہے جو کسی درخت کے سائے میں کچھ دیر ٹھہر کرچل دے۔‘‘ (۱)
(1649)…حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی ٔرحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم اس وقت تک متقی وپرہیزگار نہیں بن سکتے جب تک عاجزی وانکساری اختیار نہ کرلو۔‘‘ (۲)
(1650)…حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی ٔپاک، صاحب ِلولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تمام مخلوق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پَروَرْدَہ ہے اور مخلوق میں سے اسے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جواس کی پَروَرْدَہ کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے۔‘‘ (۳)
ہلاکت کاسبب:
(1651)…حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضورنبی ٔکریم، رء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سناکہ ’’تم سے پہلے کے لوگ درہم ودینار (یعنی مال ودولت) کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور تمہاری ہلاکت کا سبب بھی یہ دونوں ہیں۔‘‘ (۴)
تُوْبُوْااِلَی اللّٰہ! اَسْتَغْفِرُاللّٰہ
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی، کتاب الزھد، الحدیث:۲۳۸۴، ج۴، ص۱۶۷۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۰۰۴۸، ج۱۰، ص۹۰۔
3…شعب الایمان، باب فی طاعۃ اولی الامر، فصل فی نصیحیۃ الولاۃ، الحدیث:۷۴۴۸، ج۶، ص۴۳۔
4…شعب الایمان، باب فی الزھدوقصرالامل، الحدیث:۱۰۲۹۸، ج۷، ص۲۷۷، بتغیرقلیل۔