Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
164 - 603
سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی وصیت:
(1645)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے (مرض وصال میں وصیت کرتے ہوئے) فرمایا: ’’زمانہ جاہلیت والوں کی طرح میری موت کی خبر نہ دینا، کسی کو میرے پاس مت آنے دینا، دروازہ بند کر دینا، نہ توکوئی عورت میرے جنازے میں آئے اورنہ ہی میرے جنازے میں آگ لے کر چلنا، اگر تم سے ہوسکے کہ میرا آخری کلام لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ  ہو تو مجھے اس کی تلقین کرتے رہنا۔‘‘  (۱)
(1646)…حضرت ِ سیِّدُنا علی بن مدرک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے حضرت ِ سیِّدُنا اسود عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَحَد کووصیت کی کہ موت کے وقت مجھے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کرنا اور جب میرا وصال ہوجائے تو کسی کو میری موت کی خبر نہ دیناکیونکہ مجھے خوف ہے کہ کہیں میری موت کی خبرزمانہ جاہلیت کی طرح مشہور نہ کر دی جائے اور جب میرا جنازگھر سے نکالو تو تمام مردوں کے نکلنے کے بعد دروازہ بند کردینا اور کوئی عورت گھر سے نکلنے نہ پائے کیونکہ عورتوں کا میرے جنازے کے ساتھ جانا میرے لئے باعث فخر نہ ہوگا۔‘‘  (۲)
سیِّدُنا عَلْقَمَہ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے مروی اَحادیث
(1647)…حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِدوعالم، نورِمجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو یہ پسندہے کہ اس کے عطاکردہ فرائض پر عمل کیاجائے اسی طرح اسے یہ بھی پسند ہے کہ اس کی دی گئی رخصتوں پر عمل کیا جائے۔‘‘  (۳)
سرکارِدوجہاں صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی سادگی:
(1648)…حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۳۸۱، علقمۃ بن قیس، ج۳، ص۱۷، باختصار۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۷۵۷، علقمۃ بن قیس، ج۴۱، ص۱۸۷۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الادب، باب فی الاخذبالرخص، الحدیث:۱، ج۶، ص۲۳۴۔