وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکْتَسَبُوۡا فَقَدِ احْتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۵۸﴾ (پ۲۲، الاحزاب:۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔
اس نے پوچھا: ’’کیا آپ مومن ہیں؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے امید ہے کہ میں (دنیاسے) ایمان سلامت لے کرجاؤں گا۔‘‘ (۱)
قوی حافظہ کے مالک:
(1641)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’میں نے جوانی میں جو کچھ یاد کیاتھااب بھی وہ مجھے اس طرح یادہے گویا کہ کسی ورق یا تختی پر لکھا دیکھ کر پڑھ رہا ہوں۔‘‘ (۲)
علم کی بقا:
(1642)…حضرت ِ سیِّدُنا عابس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’علم کی بقا تکرار کرنے میں ہے (یعنی اگر تکرار نہ کی جائے تو جوکچھ یاد کیا وہ بھول جاتاہے)۔‘‘ (۳)
(1643)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’حدیث کاتکرار کرتے رہاکرو کیونکہ اس کی بقا تکرار کرنے ہی میں ہے۔‘‘ (۴)
(1644)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے عرض کی: ’’مجھے علمِ میراث سکھائیے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’اپنے پڑوسیوں (یعنی حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دیگر شاگردوں) کے پاس جاؤ۔‘‘ (۵)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۷۵۷، علقمۃ بن قیس، ج۴۱، ص۱۸۳۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۷۵۷، علقمۃ بن قیس، ج۴۱، ص۱۸۵، بتغیر قلیل۔
3…المحدث الفاصل بین الراوی والواعی، باب المذاکرۃ، ص۵۴۶۔
4…سنن الدارمی، باب مذاکرۃ العلم، الحدیث:۶۰۳، ج۱، ص۱۵۶۔
5…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الفرائض، ما قالوا فی تعلیم الفرائض، الرقم:۱۲، ج۷، ص۳۲۵۔