بیٹھیں کیونکہ علم ومرتبے میںجو آپ سے کم ہیں ان سے مسائل پوچھے جاتے ہیں؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پیچھے پیچھے چلاجائے اور کہا جائے کہ یہ علقمہ ہیں۔‘‘ (۱)
(1636)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ جب لوگوں میں چستی دیکھتے تو انہیں اسلاف کے کارنامے یاد دلاتے۔‘‘ (۲)
سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کاترکہ:
(1637)…حضرت ِ سیِّدُنا حسین بن عبیداللّٰہ نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے ترکہ میں صرف ایک گھر، ترکی گھوڑا اور قرآنِ مجید کا نسخہ چھوڑا اور ان کی بھی وصیت اپنے اس آزاد کردہ غلام کے لئے کردی جو مرض وصال میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا۔‘‘
عاجزی وانکساری کے پیکر:
(1638)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے خود میں عاجزی وانکساری پیدا کرنے کی نیت سے اپنے سے کمتر خاندان کی عورت سے نکاح کیا۔‘‘ (۳)
(1639)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے مرض وصال میںاپنی زوجہ سے فرمایا: ’’سج دھج کر میرے سرہانے بیٹھ جاؤ شاید اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں میری کچھ مہربانیاں عطا فرمائے۔‘‘ (۴)
صبر وتحمل کے پیکر:
(1640)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ایک بار ایک شخص حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو برا بھلا کہنے لگا تو آپ نے (جوابی کاروائی کے بجائے) یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۷۵۷، علقمۃ بن قیس، ج۴۱، ص۱۸۱، بتغیر قلیل۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۱۹۸۲، علقمہ بن قیس، ج۶، ص۱۵۰۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۷۵۷، علقمۃ بن قیس، ج۴۱، ص۱۸۴۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۷۵۷، علقمۃ بن قیس، ج۴۱، ص۱۸۴۔