Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
161 - 603
مزید فرماتے ہیں: ’’( آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی کثرت تلاوت کا عالم یہ تھاکہ) ہر جمعرات کو قرآن مجید ختم کرتے۔‘‘  (۱)
ایمان کی تقویت کا باعث:
(1632)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے ہمراہیوں سے فرماتے: ’’چلواپنے ایمان کوتقویت دیںپھرفقہی مسائل سیکھنے سکھانے میں مشغول ہوجاتے۔‘‘ (۲)
(1633)…حضرت ِ سیِّدُنا مسیب بن رافع رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ ’’جب بھی ہم حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے ملاقات کے لئے جاتے توآپ یا تونر مادہ کو ملارہے ہوتے یا بکریوں کا دودھ دوہ رہے ہوتے یا انہیں چارا ڈال رہے ہوتے۔‘‘  (۳)
مجھے شہرت پسند نہیں:
(1634)…حضرت ِ سیِّدُنا مسیب بن رافع رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے عرض کی گئی: ’’اگر آپ کسی جگہ بیٹھ کر لوگوں کو قرآن کریم اور احادیث کی تعلیم دیں تو کتنا اچھا ہو؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پیچھے پیچھے چلا جائے او رکہا جائے کہ یہ علقمہ ہیں۔‘‘ آپ جب اپنے گھر میں ہوتے تو بکریوں کے چارے وغیرہ کا بندوبست خود ہی کرتے اور ان کے ہاتھ میں کوئی چیز ہوتی جب بکریاں ایک دوسرے کو سینگ مارتیں تو اس کے ذریعے انہیں ایک دوسرے سے جدا کردیتے تھے۔  (۴)
(1635)…حضرت ِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد فرماتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے عرض کی گئی: ’’آپ مسجد میں کیوں نہیں بیٹھتے کہ آپ سے مسائل پوچھے جائیں اور ہم بھی آپ کی صحبت میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۷۵۷، علقمۃ بن قیس، ج۴۱، ص۱۸۰، بتغیر۔
	شعب الایمان، باب فی تعظیم القرآن، فصل فی ترتیل القراء ۃ، الحدیث:۲۱۶۰، ج۲، ص۳۹۲۔ 
2…الفقیہ والمتفقہ، الحدیث:۱۴۳، ج۱، ص۱۵۳۔
	شعب الایمان، باب القول فی زیادۃ الایمان…الخ، الحدیث:۵۷، ج۱، ص۷۸۔
3…الزہد للامام وکیع بن الجراح، الحدیث:۴۹۲، الجزء الاول(ب)، ص۸۰۲۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۷۵۷، علقمۃ بن قیس، ج۴۱، ص۱۸۲۔