کے شاگردوں سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا۔ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ، حضرت ِ سیِّدُنا اسود، حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن بھی ان میں تشریف فرما تھے۔ کچھ دیر ان کے قریب ٹھہر کرفرمایا: ’’علما پر میرے ماں باپ قربان! تم رضائے الٰہی کی خاطر جمع ہوکر تلاوتِ قرآن کرتے، مساجد کو آباد کرتے اور رحمت الٰہی کا انتظار کرتے ہو۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اور تم سے محبت کرنے والوں کومحبوب رکھتاہے۔‘‘
(1628)…حضرت ِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’میں جو کچھ بھی پڑھتا ہوں اور جس چیز کا بھی علم رکھتا ہوں حضرت علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بھی اسے پڑھتے اور اس کاعلم رکھتے ہیں۔‘‘ لوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: ’’کیا حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ ہم سے زیادہ پڑھتے ہیں۔‘‘ توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ہاں! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! وہ تم سے زیادہ پڑھتے ہیں۔‘‘ (۱)
خوش اِلحانی کی نعمت:
(1629)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ بن قیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے خوش الحانی سے قرآن مجید پڑھنے کی نعمت سے نوازا تھا۔ چنانچہ، حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مجھے بلاکر قرآن پاک سنا کرتے اور جب میں تلاوت کرکے فارغ ہوتا تو فرماتے مزید کچھ تلاوت کرو۔‘‘ (۲)
(31-1630)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ خوش الحان قاری تھے۔ ایک بار حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قرآن مجید سنا رہے تھے، انہوں نے فرمایا: ’’میرے ماں باپ تم پر قربان! ٹھہرٹھہر کرتلاوت کروکیونکہ ٹھہرٹھہر کر پڑھنا قرآن پاک کی زینت ہے۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۷۵۷، علقمۃ بن قیس، ج۴۱، ص۱۷۵۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۰۰۲۳، ج۱۰، ص۸۳۔