Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
159 - 603
حضرت سیِّدُنا عَلْقَمَہ بن قَیْس نَخَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی
	عالم ربانی حضرت سیِّدُنا ابوشبل علقمہ بن قیس نخعی ہمدانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بھی تابعین کے طبقہ اولیٰ میں سے ہیں۔ آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو فقاہت وعبادت، حسن تلاوت اور زہد وتقویٰ میں سے وافر حصہ عطا کیا گیا۔
(24-1623)…حضرت سیِّدُنا مُرَّۃُ الطَّیِّب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہان دیندار لوگوں میں سے تھے جو (اچھی آوازکے ساتھ) کثرت سے تلاوت قرآن کیاکرتے تھے۔‘‘ مزید فرماتے ہیں: ’’آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اس امت کے عالم ربانی ہیں۔‘‘  (۱)
 (1625)…حضرت ِ سیِّدُنا ابومعمر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت ِ سیِّدُنا عمر بن شرحبیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَکِیْل کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا: ’’میرے ساتھ اس شخص کے پاس چلوجو (دین اسلام کی) پیروی کرنے میں حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔‘‘ چنانچہ، وہ ہمیں حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس لے گئے۔  (۲)
مرجع صحابہ:
(1626)…حضرت سیِّدُنا قابوس بن ابی ظبیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَنَّان فرماتے ہیں کہ ’’میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو چھوڑکر خاص طور پر حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس کیوں جاتے ہیں؟‘‘ والدصاحب نے فرمایا: ’’میں نے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو حضرت سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے سوال کرتے اور فتویٰ پوچھتے دیکھا ہے۔‘‘  (۳)
محبوبِ الٰہی:
(1627)…حضرت ِ سیِّدُنا اسحاق بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۷۵۷، علقمۃ بن قیس، ج۴۱، ص۱۷۶۔ 
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۱۹۸۲، علقمۃ بن قیس، ج۶، ص۱۴۷، بتغیر الفاظ۔
3…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۳۸۱، علقمہ بن قیس، ج۳، ص۱۶، بتغیر۔