بہترین ٹھکانا:
(1616)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم بن محمد بن منتشر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’قبر سے بڑھ کر مومن کے لئے کوئی چیز بہتر نہیں کیونکہ مومن قبر میں جاکر دنیا کے غموں سے راحت حاصل کر لیتا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے امن میں آجاتا ہے۔‘‘ (۱)
(1617)…حضرت ِ سیِّدُنا مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جب میرا خادم مجھے یہ کہتا ہے کہ گھر میں نہ تو کوئی کھانے کی چیز ہے اور نہ ہی کوئی درہم تو میں اپنے گمان میں اس وقت خود کو سب سے بہترحالت میںمحسوس کرتاہوں۔‘‘ (۲)
(1618)…حضرت ِ سیِّدُنا ابوالعباس سراج رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنامسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’بندے کے لئے ایسی جگہوں کا ہونا ضروری ہے جہاں وہ تنہائی اختیار کرکے اپنے گناہوں کو یاد کرے اور ان سے معافی چاہے۔‘‘ (۳)
مال ودولت کی بیجا کثرت کا نقصان:
(1619)…حضرت ِ سیِّدُنا ابووائل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جس گھر میں مال ودولت زیادہ ہو اس میں آنسو (یعنی رنج وغم) بھی زیادہ ہوتے ہیں۔‘‘ (۴)
(1620)…حضرت ِ سیِّدُنا اصمعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اکثریہ اشعار پڑھا کرتے تھے:
وَیَکْفِیْکَ مِمَّا اُغْلِقَ الْبَابُ دُوْنَہ وَ اُرْخٰی عَلَیْہِ السِّتْرُ مِلْحٌ وَ حَرْدَق
وَمَائُ فُرَاتٍ بَارِدٌ ثُمَّ تَغْـتَدِیْ تُعَارِضُ اَصْحَابَ الثُرِیْدِ الْمُلْبَق
تَجَشَّا اِذْ مَا ہُمْ تُجَشِّئُوْا کَاَ نَّمَا غُذِیْتَ بِاَ لْوَانِ الطَّعَامِ الْمُفَـتَّق
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، کلام مسروق، الحدیث:۱، ج۸، ص۲۱۱۔
2…المرجع السابق۔ 3…المرجع السابق۔
4…کتاب الزھدلابن مبارک، باب النھی عن طول الامل، الحدیث:۲۶۳، ص۸۹۔