ہمارے پاس تشریف لائے۔ پھر آیت کی تفسیرجاننے کے لئے ملک شام کی جانب روانہ ہوگئے۔‘‘ (۱)
(1606)…حضرت ِ سیِّدُنا ہلال بن یساف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’ جسے یہ پسندہوکہ وہ اولین وآخرین اور دنیا وآخرت کا علم جان لے اسے چاہئے کہ سورۂ واقعہ کی تلاوت کرے۔‘‘ (۲)
عبادت کا ذوق و شوق:
(1607)…حضرت ِ سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ جب حج کے لئے جاتے تو ساری ساری رات سجدے میں گزار دیتے۔‘‘ (۳)
(1608)…حضرت ِ سیِّدُنا علاء بن ہارون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حج کے لئے گئے تو واپس لوٹنے تک اپنی پیشانی کو زمین پربچھائے رکھا(یعنی خوب عبادت کی)۔‘‘ (۴)
(1609)…حضرت ِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ’’اے سعید! اپنے چہروں کو خاک آلود (یعنی کثرت سے سجود) کرنے کے سوا دنیا میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جس میں رغبت رکھی جائے۔‘‘ (۵)
(1610)…حضرت ِ سیِّدُنا ابوضحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعُلٰی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’بندہ رب عَزَّوَجَلَّ کے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتاہے۔‘‘ (۶)
(1611)…حضرت ِ سیِّدُنا ابوضحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعُلٰی فرماتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو یوں معلوم ہوتا گویا کہ راہب ہیں اور اپنے اہل خانہ سے فرماتے: ’’تمہیں مجھ سے کچھ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۳۷۰، مسروق بن عبدالرحمن، ج۵۷، ص۳۹۷۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، کلام ابی مسروق، الحدیث:۹، ج۸، ص۲۱۱۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، کلام ابی مسروق، الحدیث:۲، ج۸، ص۲۱۱۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۳۷۰، مسروق بن عبدالرحمن، ج۵۷، ص۴۲۵۔
5…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۱۸۷۷، مسروق بن الاجدع، ج۶، ص۱۴۲۔
6…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، کلام مسروق، الحدیث:۸، ج۸، ص۲۱۱۔