Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
154 - 603
حضرت سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرت سیِّدُنا شیخ حافظ ابونُعَیم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا مسروق  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بھی تابعین میںسے ہیں۔ آپ عالم ربانی، محبت الٰہی میں سرگرداں، اپنے گناہوں کو یاد رکھنے والے، علوم وفنون میں مہارت رکھنے والے، حفاظت الٰہی پر کامل بھروسا رکھنے والے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں کے محبوب ہیں۔ پورا نام ابوعائشہ حضرت ِ سیِّدُنا مسروق بن عبدالرحمن ہمدانی کوفی ہے لیکن مسروق کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔
	علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: بارگاہِ الٰہی میں حاضری اور ملاقات کے لئے ہروقت تیار رہنے نیز اشیاء کے وجود اور راہِ طریقت میں غور و فکر کرنے کا نام تصوُّف ہے۔
عالم وجاہل کی پہچان:
(1603)…حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں: ’’ کسی شخص کے عالم ہونے کے لئے اتناہی کافی ہے کہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرے اور کسی کے جاہل ہونے کے لئے اتناہی کافی ہے کہ وہ اپنے عمل پر فخر کرے۔‘‘  (۱)
علم کامتلاشی:
(1604)…حضرت ِ سیِّدُنا ایوب طائی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے ایک مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ’’میں نے کائنات میں حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے زیادہ علم کامتلاشی کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘  (۲)
(1605)…حضرت ِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ’’ایک بار حضرت ِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بصرہ میں کسی عالم سے ایک آیت کی تفسیر معلوم کرنے کے لئے گئے لیکن وہ اس کے بارے میں نہیں جانتے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ اہل شام میں ایک عالم ہیں آپ ان کے پاس چلے جائیں۔ چنانچہ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۱۹۷۷، مسروق بن اجدع، ج۶، ص۱۴۲۔
2…سیراعلام النبلائ، الرقم:۳۸۴، مسروق بن اجدع، ج۵، ص۱۰۳۔