Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
153 - 603
	ترجمہ: (۱)…(بروزقیامت) نامہ اعمال کی تقسیم ہوگی جو لوگوں کے ہاتھوں میں بکھرے ہوں گے ان میں ان کے راز ہوں گے جبکہ خدائے جبار وقہار عَزَّوَجَلَّ تمام رازوں پرمطلع ہے۔
	(۲)…تو ان سے کیسے غافل ہے حالانکہ آئے دن خبریں (اموات) تیرے سامنے رونما ہوتی رہتی ہیںاورتویہ بھی نہیں جانتا کہ عنقریب کیا ہونے والاہے۔
	(۳)…یا جنت اور ایسی زندگی حاصل ہوگی جس کی کوئی انتہا نہیںیا پھر جہنم کا ایندھن بنناپڑے گا جہاں تیرے لئے نہ تو بقا ہوگی اور نہ ہی چھٹکارا ملے گا۔
	(۴)…جہنم اپنے اندر بسنے والوں کو کبھی نیچے دھکیلے گی کبھی اوپر اچھالے گی اور جب بھی انہیں جہنم کے غم واندوہ سے نکلنے کی امید ہوگی تو گرزوں سے ان کا استقبال کیا جائے گا۔
	(۵)…علم رکھنے والے کوچاہئے کہ موت سے پہلے پہلے علم سے نفع حاصل کرلے کیونکہ جہنمیوں میں سے کچھ لوگ دنیا میں بھیجے جانے کی التجا کریں گے لیکن انہیںبھیجا نہیں جائے گا۔
	حضرت سیِّدُناشیخ حافظ ابونُعَیم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ ہم نے تابعین میں سے حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کے ذکر سے ابتدا کی کیونکہ وہ عبادت گزار تابعین کے سردار ہیں اور دوسرے نمبر پر حضرت سیِّدُناعامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا تذکرہ کیاکیونکہ آپ قبیلہ بنو عنبر سے تعلق رکھتے ہیںاور وہ پہلے تابعی ہیں جنہوں نے بصرہ کے عبادت گزاروں میں شہرت حاصل کی۔ انہیں کوفہ سے تعلق رکھنے والے تابعین پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بصرہ کوکوفہ پرفضیلت حاصل ہے کیونکہ بصرہ کی بنیاد کوفہ سے چارسال قبل رکھی گئی۔ اسی وجہ سے اہلِ بصرہ عبادت وریاضت میں اہلِ کوفہ پر فضیلت رکھتے ہیں نیز آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان بلند بخت افراد میں سے ہیں کہ عبادت وریاضت میں جن کی تربیت حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھوں ہوئی۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قرآنِ مجید کی تعلیم انہی سے حاصل کی اور انہی کے طریقہ کار کو اختیار کیا۔ چنانچہ،
(1602)…حضرت سیِّدُنا ابوعون بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوخط لکھا کہ میں نے تم سے ایک بات کا عہد لیا تھا مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے عہدتوڑدیاہے، لہٰذا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرواوراپنے عہد پر قائم رہو۔‘‘  (۱)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، کلام ابی موسی، الحدیث:۶، ج۸، ص۲۰۴۔