Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
152 - 603
ہونے والوں میں سے کچھ لوگوں کو دیکھا اور ان کی صحبت اختیار کی ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ قیامت کے دن بااعتبار ایمان برگزیدہ لوگ وہ ہوں گے جو دنیا میں سختی سے اپنے نفس کا محاسبہ کیاکرتے تھے اور سب سے زیادہ غمگین وہ لوگ ہوں گے جودنیا میں سب سے زیادہ خوش ہوتے تھے اور سب سے زیادہ وہ لوگ روئیں گے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہنسا کرتے تھے۔ نیز انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کچھ فرائض مقرر کئے، کچھ سنتیں جاری فرمائیں اور کچھ حدود متعین فرمائی ہیں، لہٰذا جس نے فرائض وسنن پر عمل کیا اور اس کی مقرر کردہ حدود سے اجتناب برتا وہ بلاحساب جنت میں داخل ہوگا اور جس نے فرائض و سنن پر تو عمل کیا لیکن حدود کی پروا نہ کی اور (مرنے سے پہلے) توبہ کرلی تووہ سخت آزمایش، تکالیف اور ہولناکیوں کا سامنا کرنے کے بعدجنت میں داخل ہوگا اور جس نے فرائض و سنن پر تو عمل کیا لیکن حدود کی خلاف ورزی کی پھر بغیر توبہ کئے مرگیا لیکن بارگاہِ الٰہی میں مسلمان حاضر ہوا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مشیت پر ہے، چاہے تواسے معاف فرمادے اور چاہے تو عذاب دے۔‘‘  (۱)
تین پیشیاں:
(1601)…حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن لوگوں پرتین پیشیاں ہوں گی۔ دو حساب وکتاب اور عذر وغیرہ کی صورت میں جبکہ تیسری پیشی اعمال ناموں کی تقسیم کی صورت میںہوگی۔ چنانچہ، کوئی اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے گا کوئی بائیں ہاتھ میں۔‘‘ پھر حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُناعامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف منسوب کرکے یہ اشعارپڑھے:
قَدْ طَارَتِ الصُّحُفِ فِی الْاَیْدِیْ مُنْتَشِرَۃُ 	فِیْہَا السَرَائِرُ وَالْجَبَارُ مُطَّلِع
فَکَیْفَ سَہْوُکَ وَالْاَنْبِیَاءُ وَاقِعَۃُ 		عَمَّا قَلِیْلٌ وَلَاتَدْرِیْ بِمَا تَـقَع
اَ مَّا الْجَنَانُ وَعَیْشٌ لَا اِنْـقِضَاءَ لَـہُ 		اَ مَّا الْجَحِیْمُ فَـلَا تَبْقٰی وَلَا تَدَع
تَھْوِیْ بِسُکَّانِہَا طَوْرًا وَّتَرْفِـعُہُ   		 اِذَا رَجَوْا مَخْرَجًا مِنْ غَمِّہَا قُمِعُـوْا
لِیَنْفَعِ الْعِلْمَ قَـبْلَ الْمَوْتِ عَالِمُہُ 		قَدْ سَاَلَ قَوْمٌ بِہَا الرَجْعِیْ فَمَا رَجَعُوْا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھدعامربن قیس، الحدیث:۱۲۵۳، ص۲۴۰۔