خبرلیجئے)۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’آگ کو چھوڑو وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے مامورہے۔‘‘ پھرنماز میں مشغول ہوگئے۔ چنانچہ، جب آگ قرب وجوار کو جلاتی ہوئی ان کے گھرتک پہنچی تودوسری جانب پھرگئی۔ (۱)
(1595)…حضرت سیِّدُنامالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں: ایک شخص نے کسی کوخواب میں ندا دیتے سنا کہ ’’لوگوں کو آگاہ کردو حضرت سیِّدُنا عامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات ہوگی اور جس دن ان کی ملاقات ہوگی اس دن ان کاچہرہ چودھویں کے چاندکی طرح روشن ہوگا۔‘‘ (۲)
نمازمیں خشوع و خضوع:
(1596)…حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناعامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کچھ لوگوں کو دوران نماز جائداد وغیرہ کاتذکرہ کرتے سنا تو فرمایا: ’’کیا تم اسے پاسکتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’جی ہاں!‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’بخدا! میرا پیٹ نیزوں سے چھلنی ہوجائے تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ دوران نماز مجھ سے ایسی باتیں صادر ہوں۔‘‘ (۳)
راحت وسکون کیسے حاصل ہو؟
(1597)…حضرت سیِّدُنا ثابت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک بار حضرت سیِّدُناعامر بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے چچازاد بھائیوں سے فرمایا: ’’تم اپنے معاملات اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کردو راحت وسکون پاجاؤ گے۔‘‘ (۴)
فرمانبردار بن جاؤ دعائیں قبول ہوں گی:
(1598)…حضرت سیِّدُناابوغلاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی: ’’میرے لئے مغفرت کی دعا کیجئے!‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۰۵۲، عامر بن عبد اللّٰہ، ج۲۶، ص۳۱۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۰۵۲، عامر بن عبد اللّٰہ، ج۲۶، ص۴۲۔
3…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھدعامربن قیس، الحدیث:۱۲۴۰، ص۲۳۸۔
4…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب عامربن عبدقیس، الحدیث:۶، ج۸، ص۲۴۳۔