Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
149 - 603
رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو جلاوطن کرکے شام کی جانب بھیجاگیاتو آپ نے فرمایا: ’’تمام تعریفیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جومجھے سوار کرکے لے گیا۔‘‘  (۱)
(1591)…حضرت سیِّدُنا سعید بن عامر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی گئی: ’’اگر آپ بصرہ تشریف لے جائیں تو بہتر ہوگا۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! وہ ایسا شہر ہے جس کی طرف میں نے ہجرت کی اور وہاں رہ کر قرآن مجید سیکھا لیکن سفرِمحبت ایسا سفرہے کہ جس کا کوئی ٹھکانا نہیں۔‘‘  (۲)
(1592)…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناعامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! سردیوں میں میرے لئے طہارت کرنا آسان فرما۔‘‘ (اس کے بعد) جب طہارت کے لئے پانی لایا جاتا تو اُس میں سے بخارات اٹھ رہے ہوتے۔  (۳)
مخلوق کے خوف سے بے پروا:
(1593)…حضرت سیِّدُنامالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا عامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا گزر ایک ایسے قافلے کے قریب سے ہوا جو کسی مقام پرٹھہراہوا تھا،آپ نے پوچھا: ’’آگے کیوں نہیں جاتے؟‘‘ کہا: ’’ ایک شیرہمارے راستہ میں حائل ہوگیا ہے۔‘‘آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’یہ بھی کتوں میں سے ایک کتا ہے۔‘‘ چنانچہ، آپ شیر کے اتناقریب ہوکر گزرے کہ کپڑے شیر کے منہ سے چھو گئے۔  (۴)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر کامل بھروسا:
(1594)…حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت سیِّدُناعامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی گئی: ’’آپ کے گھر کا قرب وجوار آگ کی لپیٹ میں آچکا ہے (لہٰذا اپنے گھر کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھدعامر بن قیس، الحدیث:۱۲۴۷، ص۲۳۹۔
2…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھدعامر بن قیس، الحدیث:۱۲۵۵، ص۲۴۱۔
3…الزھدلابن مبارک، باب ماجاء فی ذکرعامر…الخ، الحدیث:۸۶۱، ص۲۹۵۔
4…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۸۴، عامر بن عبد اللّٰہ، ج۳، ص۱۳۵۔