حضرت سیِّدُناعامر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر بادشاہ کے ملازم کے پاس سے گزرے جو کسی ذمی (۱) کو زبردستی کھینچتے ہوئے لے جا رہا تھا جبکہ ذمی مدد کے لئے پکار رہا تھا،آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ذمی سے پوچھا: ’’کیا تو نے جزیہ ادا کر دیا؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’جی ہاں!‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ملازم سے کہا: ’’تم اس سے کیا چاہتے ہو؟‘‘ عرض کی: ’’اسے امیر کے گھر جھاڑو دینے کے لئے لے جا رہا ہوں۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ذمی سے پوچھا: ’’کیا یہ کام تم خوشی سے انجام دے دو گے؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’اس کے سبب میرے دیگر کام رہ جائیں گے۔‘‘ حضرت سیِّدُناعامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ملازم سے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو۔‘‘ اس نے کہا: ’’میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو۔‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ چنانچہ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی چادر ایک طرف رکھ کر فرمایا: ’’میں اپنے جیتے جی حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذمہ ٹوٹنے نہیں دوں گا۔‘‘ پھر زبردستی ذمی کو اس سے چھڑالیا۔ یہی عمل ان کی جلا وطنی کا سبب بنا۔ (۲)
مخالفین کو بھی دُعا:
(1589)…حضرت سیِّدُنا سعید جریری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو جلاوطن کیاگیا تو ان کے ہم نشیں ظہر مربدکے مقام تک انہیں الوداع کرنے گئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہو۔‘‘ لوگوں نے کہا: ’’ہم بھی اسی بات کے خواہش مندہیں کہ آپ دعا کریں۔‘‘ چنانچہ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس طرح دعاکی: ’’یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! جس نے میری چغلخوری کی، میرے خلاف جھوٹ بولا، مجھے میرے شہر سے نکالا، میرے اور میرے ہم نشینوں کے درمیان جدائی ڈالی اس کے مال واولاد میں اضافہ فرما، اسے جسمانی صحت اور لمبی عمر عطا فرما۔‘‘ (۳)
(1590)…حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سیِّدُناعامر بن عبدقیس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فتاوی فیض الرسول جلد1 صفحہ501 پر فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ذمی اس کافر کوکہتے ہیں جس کے جان ومال کی حفاظت کا بادشاہِ اسلام نے جزیہ کے بدلے ذمہ لیاہو (موجودہ دور کے تمام کفار حربی ہیں اب کوئی ذمی نہیں)۔
2…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھدعامر بن قیس، الحدیث:۱۲۵۶، ص۲۴۱۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب عامربن عبدقیس، الحدیث:۸، ج۸، ص۲۴۴۔