Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
147 - 603
اسے ان کے پاس جانے کی اجازت نہیں ملتی مجھ سے زیادہ وہ اس سلوک کا مستحق ہے۔‘‘ قاصد نے کہا: ’’امیرالمؤمنین نے مجھے حکم دیا ہے کہ آپ سے کہوں آپ جس عورت سے چاہیں نکاح کرلیں اور مہر بیتُ المال سے اداکردوں۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’میں نکاح کے معاملہ میں تھکا ماندہ ہوں۔‘‘ اس نے پوچھا: پھر آپ کس عورت سے نکاح کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’جو روٹی کے خشک ٹکڑے اور بوسیدہ چادر کو قبول کرے۔‘‘ پھر اپنے ہم نشینوں کی طرف متوجہ ہوکرفرمایا: ’’کیاتم میںکوئی ایسا ہے جس کے دل میں اہل خانہ کی محبت نہ ہو؟‘‘ انہوں جواب دیا: ’’ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے۔‘‘ پھر پوچھا: ’’کیا کوئی ایسا ہے جس کے دل میں اولاد کی محبت نہ ہو؟‘‘ عرض کی: ’’نہیں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! نیزوں سے میری پسلیاں ٹوٹ پھوٹ جائیں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایسا ہوجاؤں (یعنی میرے دل میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کسی اورکی محبت ہو)۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں صرف محبت الٰہی کوہی اپنا مقصدحیات بناؤں گا۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’حضرت سیِّدُنا عامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عملی طور پر ایسا ثابت بھی کرکے دکھایا۔‘‘  (۱)
چارچیزیں:
(1586)…حضرت سیِّدُناابوہاشم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعامر بن عبدقیسرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’میں نے دنیا کا معاملہ چارچیزوں میں پایا: (۱)…مال (۲)…عورتیں (۳)…نیند اور (۴)…کھانا۔ مال اور عورتوں میں تو مجھے کوئی دلچسپی نہیں اور جہاں تک نیند اور کھانے کا تعلق ہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر میری طاقت میں ہوتا تو میں ان پر بھی قابو پالیتا۔‘‘  (۲)
مظلوم کی مدد:
(88-1587)…بنی جثم کے آزادکردہ غلام حضرت سیِّدُناعبداللّٰہ بن عیاش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والدبیان کرتے ہیں کہ ایک شیخ نے مجھے حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جلاوطنی کاسبب بتایاکہ ایک مرتبہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھدعامربن قیس، الحدیث:۱۲۲۸، ص۲۳۵۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۰۵۲، عامربن عبداللّٰہ، ج۲۶، ص۱۸۔