Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
146 - 603
تقویٰ وپرہیزگاری:
(1583)…حضرت سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ امیر بصرہ کے قاصد نے حضرت سیِّدُنا عامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آکر کہا: ’’خلیفہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ سے نکاح نہ کرنے کا سبب دریافت کروں؟‘‘ حضرت سیِّدُنا عامر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر نے فرمایا: ’’میں نکاح کے معاملے میں تھکاماندہ ہوں اس لئے میں نے عورتوں کوچھوڑ رکھا ہے۔‘‘ قاصدنے پوچھا: ’’آپ پنیر کیوں نہیں کھاتے؟‘‘ فرمایا: ’’میں ایسی جگہ رہتا ہوں جہاں مجوسی (آگ کی پوجاکرنے والے) بکثرت ہیں، لہٰذاجب تک کسی چیزکے بارے میں دو مسلمان گواہی نہ دے دیں کہ اس میں مردار شامل نہیں ہے تب تک میں اسے نہیں کھاتا۔‘‘ قاصد نے کہا: ’’آپ اُمرا کے پاس کیوں نہیں جاتے؟‘‘ فرمایا: ’’تمہارے دروازوں پرحاجت مندوں کا ہجوم رہتاہے، لہٰذاان کی ضروریات پوری کرو اور جنہیں تمہاری کوئی حاجت نہیں انہیں چھوڑ دو۔‘‘  (۱)
(1584)…حضرت سیِّدُنا صخر بن ابی صخر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’کیا میں اہل جنت میں سے ہوں یا (فرمایا: کیا) میں جنتی ہوں، کیا میرے جیسا شخص بھی جنت میں داخل ہوگا؟‘‘
مقصد ِحیات:
(1585)…حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک قاصد کو حضرت سیِّدُنا عامربن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس یہ کہہ کر بھیجاکہ ’’ان سے اچھے سلوک سے پیش آؤ،ان کاادب واحترام کرو اور کہو کہ جس عورت سے چاہیں نکاح کرلیں، مہر بیتُ المال سے اداکیاجائے گا۔‘‘ چنانچہ، قاصد نے خدمت میں حاضر ہو کر کہا: ’’امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے فرمایا ہے کہ میں آپ سے اچھا برتاؤ کروں، ادب واحترام سے پیش آؤں۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’فلاں شخص جس کا کافی عرصے سے حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اختلاف چل رہا ہے اور 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۹۸۹، عامر بن عبد اللّٰہ بن عبدالقیس، ج۷، ص۷۶۔