Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
145 - 603
کے بارے میں بتائیے؟‘‘ حضرت سیِّدُنا عامر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر نے فرمایا: ’’بے شک مجھ سے بھی عمل میں کوتاہی سرزد ہوجاتی ہے لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہیبت وجلال کی عظمت دل میں اس قدرہے کہ میں اس کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔ ایک بار درندوں نے مجھے گھیرلیا ایک درندہ پشت کی جانب سے مجھ پرجھپٹا اور اپنے پنجے میرے کاندھے پر گاڑدیئے جبکہ میں یہ آیت ِ مقدسہ تلاوت کررہاتھا:
ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوۡعٌ ۙ لَّہُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْہُوۡدٌ ﴿۱۰۳﴾   (پ۱۲، ہود:۱۰۳)
ترجمۂ کنزالایمان:وہ دن ہے جس میں سب لوگ اکھٹے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے۔
	جب درندے نے دیکھا کہ میں نے اس کی کچھ پرواہ نہیں کی تووہ مجھے چھوڑ کر چلاگیا۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حممہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: ’’اے عامر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر! کون سی چیز آپ کے لئے باعث ہلاکت ہے؟‘‘ فرمایا: ’’مجھے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے حیا آتی ہے کہ اس کے علاوہ کسی اورچیز سے خوف کھاؤں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حممہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: ’’اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں پیٹ کی آزمایش میں مبتلا نہ فرماتا تو میرا رب عَزَّوَجَلَّ مجھے ہروقت رکوع وسجود میںہی مشغول پاتا لیکن جب ہم کھاتے ہیں توقضائے حاجت کی بھی ضرورت پیش آتی ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حممہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں منقول ہے کہ روزانہ 800رکعت نوافل ادا فرماتے اور پھر کہتے: ’’بے شک مجھ سے عبادت میں کوتاہی ہوجاتی ہے اور اپنے نفس پر بہت زیادہ عتاب کرتے۔‘‘  (۱)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت ہو تو ایسی:
(1582)…حضرت سیِّدُنا حزم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کے بھائی حضرت سیِّدُنا سہل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایاکرتے تھے: ’’میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ایسی محبت کرتاہوں کہ جس کے سبب ہر مصیبت مجھ پرآسان ہوگئی اور وہ ہرمعاملے میں مجھ سے راضی ہوگیااوراس سے ایسی محبت کے سبب میں جس حال میں بھی صبح وشام کروں مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔‘‘  (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۸۴، عامر بن عبد اللّٰہ، ج۳، ص۱۳۴-۱۳۵۔
2…اسد الغابۃ، الرقم:۲۷۱۲، عامربن عبدقیس، ج۳، ص۱۳۰۔