Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
144 - 603
سب سے بڑا عبادت گزار:
(1581)…حضرت سیِّدُنا ابن وہب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ افضل ترین عبادت گزاروں میں سے تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے خود پرروزانہ ایک ہزاررکعت پڑھنا لازم کر رکھا تھا۔ طلوع آفتاب سے لے کرعصرتک مسلسل نمازمیں مشغول رہتے جب لوٹتے توپاؤں اورپنڈلیاں سوجی ہوتیں۔ اپنے نفس سے فرماتے: ’’اے نفس! اے برائی کا حکم دینے والے! تجھے تو صرف عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ بخدا! میں تجھے مسلسل سرگرم عمل رکھوں گا حتی کہ بستر بھی تجھ سے اپنا حصہ وصول نہ کرسکے گا (یعنی آرام نہیں کروں گا)۔‘‘ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وادی سباء کی طرف تشریف لے گئے وہاں حضرت سیِّدُنا حممہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نامی ایک حبشی عابد رہتے تھے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وادی کے ایک کونے میںاور وہ عابد دوسرے کونے میںمشغول عبادت ہوگئے 40دن اور 40رات تک دونوں ایک دوسرے کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ جب فرض نماز کا وقت ہوتا تو باجماعت نماز ادا کرتے پھر اپنی اپنی جگہ جاکر نوافل میں مشغول ہوجاتے 40دن بعد حضرت سیِّدُنا عامر بن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُنا حممہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! آپ کون ہیں؟‘‘ کہا: ’’چھوڑو! مجھے اپنے کام میں مشغول رہنے دو۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عامر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر نے فرمایا: ’’میں تمہیں قسم دیتا ہوں بتاؤتم کون ہو؟‘‘ جواب دیا: ’’میں حممہ ہوں۔‘‘ فرمایا: ’’اگر تم وہی حممہ ہو جس کا مجھ سے تذکرہ کیا گیا تھا تو پھر تم دنیا میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہو۔ مجھے افضل ترین خصلت کے بارے میں بتاؤ؟‘‘
	حضرت سیِّدُنا حممہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: ’’بے شک مجھ سے عمل میں کوتاہی ہوتی ہے اگرفرض نماز کے مقررہ اوقات میرے رکوع و سجود کو قطع کرنے کا سبب نہ بنتے تو میں پسند کرتا کہ ساری عمر رکوع میں گزرجاتی اور میرا چہرہ سجدے میں جھکارہتا یہاں تک کہ میراوصال ہوجاتا لیکن فرض نمازیں مجھے ایسا کرنے نہیں دیتیں۔‘‘ یہ کہنے کے بعد پوچھا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! آپ کون ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’میں عامر بن عبدقیس ہوں۔‘‘ کہا: ’’ اگر آپ وہی عامر ہیں جن کا میں نے تذکرہ سن رکھا ہے تو آپ تمام لوگوں سے زیادہ عبادت گزار ہیں، لہٰذامجھے کسی افضل خصلت