Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
143 - 603
 میں گزارتے اوردن روزہ کی حالت میں بسر کرتے۔ شیطان ان کے سجدہ کی جگہ پر سانپ کی طرح کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا جب اس کی بومحسوس کرتے تو ہاتھ سے دورکرکے سجدہ کرلیتے اور فرماتے: ’’اگر تیری بو نہ ہوتی تومیں تجھ پر ہی سجدہ کر لیتا۔‘‘ شیطان سانپ کی شکل اختیار کر لیتا تھا۔ حضرت سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نمازپڑرہے ہیں اور شیطان ان کی قمیص میں داخل ہوکر آستین وغیرہ سے نکل جاتا لیکن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ذرابھی حرکت نہ کرتے۔ عرض کی گئی: ’’آپ سانپ کو خود سے دور کیوں نہیں کرتے؟ ‘‘فرماتے: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! مجھے حیا آتی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات کے علاوہ کسی اورچیزسے خوف محسوس کروں۔ بخدا! مجھے تو احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کب داخل ہوا اور کب نکلا۔‘‘ایک بار کسی نے عرض کی: ’’عبادت وریاضت میں آپ جتنی مشقت اٹھاتے ہیں جنت تواس سے کم مشقت میں بھی حاصل ہوسکتی اور جہنم سے بچاجاسکتاہے۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’نہیں! (میں اس وقت تک نہ جنتی ہو سکتا ہوں اور نہ جہنم سے بچ سکتاہوں)  جب تک کہ اپنے نفس کو خوب ذلیل نہ کرلوں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک بار حضرت سیِّدُنا عامر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر بیمار ہوئے تورونے لگے۔ عرض کی گئی: ’’آپ تو بڑے پرہیزگار اور زاہد ہیں پھرکیوں رورہے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’میں کیوں نہ روؤں اور مجھ سے زیادہ رونے کاحقدار کون ہے؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں دنیاکے چھوٹنے پر یا موت کی تلخی کی وجہ سے نہیں رو رہا بلکہ میں تواس وجہ سے رو رہا ہوں کہ سفر لمبا اور زادِ راہ کم ہے۔ میں شام بلندی یا پستی یعنی جنت یا دوزخ میں گزاروں گااورمعلوم نہیں کہ جنت ٹھکانا ہوگا یا جہنم۔‘‘  (۱)
(1580)…یہ روایت بھی ماقبل کی مثل ہے اس میں اتنا زائدہے کہ حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’میں خوب کوشش کروں گا اگر نجات پاگیا تو یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہوگی اور اگرجہنم میں چلاگیا تو اپنی کوشش میں کوتاہی کی وجہ سے جاؤں گا۔‘‘ (کسی نے روتے دیکھ کروجہ پوچھی تو) فرمایا: ’’میں دنیاکے چھوٹنے پر نہیں رو رہا بلکہ گرمیوں میں روزہ رکھنے اورسردیوں کی راتوں میں قیام کرنے میں کوتاہی کے سبب رورہاہوں۔‘‘  (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۸۴، عامر بن عبد اللّٰہ، ج۳، ص۱۳۴-۱۳۳، بتغیر قلیل۔
	الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۲۹۸۹، عامر بن عبد اللّٰہ بن عبدالقیس، ج۷، ص۷۹۔
2…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھدعامر بن قیس، الحدیث:۱۲۵۱، ص۲۴۰، بتغیر۔