حضرت سیِّدُنا عامر بن عبد قیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
زندگی کی آسائش ولذات سے کنارہ کش رہنے والے حضرت سیِّدُنا عامربن عبدقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی طبقہ اُولیٰ کے تابعین میں سے ہیں۔ آپ حدودالٰہی کی محافظت کرنے والے، باحیا، عیوب ونقائص سے پاک اور نورِ ہدایت سے منورتھے۔
علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے) ملاقات کے شوق میں بلندرتبے ومقام کے حصول کی کوشش کا نام تصوُّف ہے۔
شیطان سانپ کی شکل میں:
(1579)…حضرت سیِّدُنا علقمہ بن مرثد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ 8افراد زہد کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہیں: (۱)…حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللّٰہ بن عبدقیس (۲)…حضرت سیِّدُنااویس قرنی (۳)…حضرت سیِّدُنا ہرم بن حیان (۴)…حضرت سیِّدُنا ربیع بن خیثم (۵)…حضرت سیِّدُنا مسروق بن اجدع (۶)…حضرت سیِّدُنا اسود بن یزید (۷)…حضرت سیِّدُناابومسلم خولانی اور (۸)…حضرت سیِّدُناحسن بن ابوالحسن رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔ حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایاکرتے تھے: ’’دنیا رنج وغم کامقام اور آخرت آگ اور حساب وکتاب کی جگہ ہے تو پھر راحت وسکون کہاں ہے؟ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! تو نے مجھے (میری) چاہت وخواہش کے بغیر اپنی قدرت کاملہ سے پیدا فرمایا، دنیوی آزمایشوں میں مبتلا کیا پھر مجھے (برائی سے) بچنے کا حکم فرمایا، لہٰذا اگر تو مجھے برائی سے نہ بچائے تو میں کیسے بچ سکتاہوں۔ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! بے شک توجانتاہے کہ اگرساری دنیابھی اپنے ساز وسامان کے ساتھ مجھے مل جائے تو تیرے فرمان پرمیں اسے تیری (رضا) کی خاطرچھوڑدوں گا، لہٰذا مجھے میرے نفس پرقدرت وطاقت عطا فرما۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اکثرفرمایا کرتے: ’’چارچیزیں دنیا کی لذات میں سے ہیں: (۱)…مال (۲)…عورتیں (۳)…نیند اور (۴)…کھانا۔ مال ودولت اور عورتوں میں مجھے کوئی حاجت ورغبت نہیں جبکہ نینداورکھانے کے بغیر گزارا نہیں۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں ان دونوں سے بچنے کی بھی پوری کوشش کرتاہوں۔‘‘
(مروی ہے کہ)حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عبادت کاعالم یہ ہوتاتھاکہ رات حالت قیام