سے کیاکام ہے؟‘‘ اس نے کہا: میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سناکہ ’’اویس قرنی تابعین میں سے سب سے بہتر اور اچھے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی سواری کا رخ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے اصحاب کی طرف موڑ لیا۔‘‘ (۱)
قیامت کی ایک نشانی:
(1576)…حضرت سیِّدُنا حمید بن صالح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میںنے حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کو فرماتے سنا کہ حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’صحابہ کے معاملہ میں مجھے تکلیف نہ پہنچانا کیونکہ قیامت کی علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس امت کے بعد والے پہلوں پر لعنت کریں گے۔ اس وقت زمین و اہل زمین پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سخت غضب فرمائے گا، لہٰذا جو بھی اس زمانہ کو پائے تووہ تلوار کاندھے ہی پر رکھے اور شہید ہوکربارگاہِ الٰہی میں حاضر ہواور اگر ایسا نہ کرسکے توخودکوہی ملامت کرے۔‘‘ (۲)
(1577)…حضرت سیِّدُنا اصبغ بن زید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ’’ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی خدمت والدہ کی ذمہ داری کے سبب زیارت رسول سے مشرف نہ ہوسکے۔‘‘ (۳)
جذبۂ عبادت:
(1578)…حضرت سیِّدُنا اصبغ بن زید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی جب شام کرتے توفرماتے: ’’یہ رات رکوع میں گزارنے کی ہے۔‘‘پھر ساری رات رکوع میں گزاردیتے اگلی شام آتی تو فرماتے: ’’یہ رات سجدہ میں گزارنے کی ہے۔‘‘ پھر صبح تک سجدہ ہی میں رہتے۔ (آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا معمول تھاکہ) جب شام ہوتی تو گھر میں موجود کھانے اور پہننے کی زائداشیاء راہِ خدامیں صدقہ کر دیتے۔ پھر بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! جو شخص بھوک اوربے لباسی کی حالت میں مرجائے تُو مجھ سے اس کے بارے میں سوال نہ فرمانا۔‘‘ (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب خیرالتابعین، الحدیث:۵۷۷۱، ج۴، ص۴۹۶، بتغیر قلیل۔
2…سیراعلام النبلائ، اویس القرنی، ج۵، ص۷۸۔
3…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد اویس القرنی، الحدیث:۲۰۱۲، ص۳۴۴۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۸۴۰، اویس بن عامر، ج۹، ص۴۴۴۔