Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
140 - 603
	حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’ہاں کیوں نہیں! بے شک میرے رب عَزَّوَجَلَّنے مجھے ان کی موت کی اطلاع دی ہے اور میں جو کہہ رہا ہوں اسے جانتا ہوں کیونکہ کل میرا اور تمہارا شماربھی مردوں میں ہی ہوگا۔‘‘ پھر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مختصرسی دعافرمائی۔ پھر فرمایا: ’’اے ابن حیان! کتابُ اللّٰہ میں سے یہ تمہیں میری وصیت ہے (اسے یاد رکھنا) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں میں سے صالحین کی موت کی خبردی ہے،میں تمہیں اپنی موت کی خبردے رہاہوں، لہٰذاموت کو ہمیشہ یادرکھنا۔ اگراستطاعت ہوتوایک لمحہ کے لئے بھی دل کو موت کی یاد سے غافل نہ ہونے دینااورجب اپنی قوم کی طرف لوٹ کرجاؤتوانہیں بھی ڈرانا اور اپنے لئے بھی کوشش کرتے رہنا اور (اہل حق) گروہ کا ساتھ کبھی نہ چھوڑنا ورنہ اپنے دین سے ہاتھ دھو بیٹھو گے اورتمہیں احساس تک نہ ہوگاپھراگراسی حالت میں مر گئے تو بروزِقیامت آگ کا ایندھن بنو گے۔‘‘ پھر بارگاہِ الٰہی میںعرض کی: ’’یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! یہ شخص خیال کرتا ہے کہ یہ تیری رضا کی خاطرمجھ سے محبت کرتاہے اور صرف تیری رضاکی خاطرمجھ سے ملاقات کے لئے آیاہے، لہٰذا جنت میں بھی اس سے میری ملاقات کروانا، دنیا میں اسے قناعت عطافرما، دنیامیں جوکچھ بھی اسے عطافرمائے آسانی وعافیت سے عطافرمانا اور جن اعمال کی اسے توفیق بخشے اس پراسے شکرکی دولت نصیب فرمانا۔ اے ہرم بن حیان ! میں تمہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کرتا ہوں، وَعَلَیْکَ السَّلَام۔ آج کے بعدمجھے تلاش نہ کرنااورنہ کسی سے میرے بارے میں پوچھنا۔ اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہاتومیں تمہیں یادبھی رکھوں گااورتمہارے لئے دعابھی کروں گا۔ تم اپنا راستہ لو میں اپنی راہ لیتاہوں۔‘‘حضرت سیِّدُنا ہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: ’’میں نے خواہش کی کہ تھوڑی دیران کے ہمراہ چلوں لیکن انہوں نے انکار کردیا پھرہم دنوں روتے ہوئے ایک دوسرے سے جداہوگئے۔وہ ایک گلی میں تشریف لے گئے اس کے بعد میں نے انہیں بہت تلاش کیا،ان کے متعلق لوگوں سے پوچھا لیکن مجھے کوئی ایساشخص نہ ملاجوان کے بارے میں کچھ بتاتا۔‘‘   (۱)
خیرالتابعین:
(1575)…حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن ابی لیلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ جنگ صفین کے دن شامیوں میں سے ایک شخص نے آواز لگائی: ’’کیا تمہارے ساتھ اویس قرنی ہیں؟‘‘ ہم نے کہا: ’’ہاں! لیکن تمہیں ان 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۸۴۰، اویس بن عامر، ج۹، ص۴۴۷، باختصار۔