Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
139 - 603
کرتا ہوں کیونکہ میں اپنے نفس (کی اصلاح) میں ہی مصروف ہوں۔‘‘ میں نے عرض کی: ’’چلیں قرآنِ مجید کی کچھ آیات ہی تلاوت فرما ئیے کہ میں سن لوں اورمیرے لئے دعافرمائیں اورکچھ وصیت بھی فرمائیں۔‘‘ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرات کے کنارے چلتے ہوئے فرمایا: میرے رب عَزَّوَجَلَّ کا فرمان حق ہے، سب سے سچی بات  اور سب سے اچھاکلام میرے رب عَزَّوَجَلَّ کاہے۔ (پھر اس طرح تلاوت فرمائی:) اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم:
اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیۡقَاتُہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾   (پ۲۵، الدخان:۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک فیصلہ کا دن ان سب کی میعاد ہے۔
	یہ آیت ِ مبارک تلاوت کرنے کے بعد ایک زوردار چیخ ماری (اورخاموش ہوگئے) میں سمجھا کہ شاید آپ بے ہوش ہوگئے ہیں۔ پھریہ آیت ِ مقدسہ تلاوت فرمائی: یَوْمَ لَا یُغْنِیۡ مَوْلًی عَنۡ مَّوْلًی شَیْـًٔا وَّ لَا ہُمْ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللہُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۴۲﴾  (پ۲۵، الدخان:۴۱،۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان: جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد ہوگی مگر جس پر اللّٰہ رحم کرے بیشک وہی عزت والا مہربان ہے۔
	پھرمیری طرف دیکھ کرفرمایا: ’’اے ہرم بن حیان! تمہارے والد انتقال فرماگئے اور عنقریب تمہارا بھی انتقال ہوجائے گا۔ ابوحیان کاانتقال ہوگیاان کا ٹھکانا جنت ہوگا یا جہنم۔ اے ابن حیان! حضرت سیِّدُنا آدم وحضرت سیِّدَتُنا حواء عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دنیا سے تشریف لے گئے۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُ اللّٰہعَلَیْہِ السَّلَام بھی رخصت ہوگئے۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ نَجِیُّ اللّٰہعَلَیْہِ السَّلَام کا بھی وصال ہوگیااور حضرت سیِّدُنا محمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی (بظاہر) دنیاسے تشریف لے گئے۔امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی وصال فرماگئے اور میرے بھائی، میرے مخلص دوست امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی دنیاسے چلے گئے۔افسوس اے عمر! افسوس اے عمر!‘‘ حضرت سیِّدُناہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: یہ واقعہ خلافت فاروقی کے اخیرکاہے۔ میں نے عرض کی: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ رحم فرمائے! امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا توابھی وصال نہیں ہوا۔‘‘