(1572)…حضرت سیِّدُنا قیس بن بشیر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر اپنے والدسے روایت کرتے ہیں: وہ فرماتے ہیں: ’’میں نے حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کو بے لباس ہونے کی وجہ سے دوکپڑے پہنائے۔‘‘ (۱)
سیِّدُنا ہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کو وصیت:
(74-1573)…حضرت سیِّدُناہرم بن حیان عبدی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ میں فقط حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کی زیارت کے لئے کوفہ گیالوگوں سے ان کے بارے میں پوچھاکسی نے کچھ نہ بتایا، ان کی تلاش میں فرات کی جانب جا نکلا دیکھاکہ ایک شخص وضو کر رہا اور اپنے کپڑے دھو رہا ہے۔ علامات واوصاف سے میں نے انہیں پہچان لیاکہ یہی حضرت سیِّدُنااویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی ہیں کیونکہ آپ گندم گو، سر منڈائے ہوئے، گھنی داڑھی والے اور بارعب شخص تھے۔میں نے انہیں سلام کیا اور مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا لیکن انہوں نے مصافحہ نہ کیا حالانکہ جب میں نے انہیں اس حالت میں دیکھا تو رونے کی وجہ سے میرا گلا گھٹنے لگا تھا۔میں نے سلام کرتے ہوئے کہا: ’’اے بھائی! آپ کیسے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’اے ہرم بن حیان ! تم کیسے ہو؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں لمبی عمر عطا فرمائے! میرے بارے میں تمہیں کس نے بتایا؟‘‘ میں نے کہا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے۔‘‘ فرمایا: ’’پاکی ہے ہمارے ربعَزَّوَجَلَّ کو۔ بے شک ہمارے رب عَزَّوَجَلَّکا وعدہ پورا ہوکر رہتا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پررحم فرمائے! آپ نے میرا اور میرے والد کا نام کیسے جانا؟حالانکہ بخدا! آج سے پہلے کبھی ہماری ملاقات نہیں ہوئی۔‘‘ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’جب میرے نفس نے (تیرے نفس سے) کلام کیا تو میری روح نے تیری روح کو پہچان لیا کیونکہ جس طرح جسموں کے نفس ہیں اسی طرح روحوں کے بھی نفس ہوتے ہیں اورمسلمان اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی عطا کردہ روح کے ذریعے ایک دوسرے کوپہچانتے ہیں اگرچہ ان کے گھر دور اورمنازل جداجداہی کیوں نہ ہوں۔‘‘میں نے عرض کی: ’’مجھے کوئی حدیث سنائیے! جسے میں آپ سے سن کریادکرسکوں۔‘‘
حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’میں نہ تو (ظاہری حیات میں) زیارت رسول سے مشرف ہوا اور نہ ہی صحبت ِبابرکت سے فیضیاب ہوالیکن میں نے زیارت کاشرف پانے والوں کودیکھاہے اورجس طرح تمہیں حدیثیں پہنچی ہیں مجھے بھی پہنچی ہیں۔ میں اپنے لئے یہ دروازہ کھولنا پسند نہیں کرتا اور نہ ہی قاضی یا مفتی بننا پسند
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد اویس القرنی، الحدیث:۲۰۰۶، ص۳۴۱۔