مال میں سوناچاندی کچھ بھی نہیں چھوڑا اور انسان کا حق پرقائم رہنا اس کے لئے کوئی دوست باقی نہیں چھوڑتا۔‘‘ (۱)
غیبی قبر:
(1569)…حضرت سیِّدُناعبداللّٰہ بن سلمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ہم نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانہ خلافت میں آذربائیجان فتح کرنے کے لئے جہاد کیا حضرت سیِّدُنااویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جب ہم واپس لوٹے توآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیمار ہوگئے۔ اسی حالت میں ہم نے انہیں اپنے ساتھ لے لیا لیکن جان بر نہ ہوسکے اوروصال فرماگئے۔ چنانچہ، ہم نے راستے میں ایک مقام پر قیام کیا تو ایک کھدی ہوئی قبر، پانی، کفن اور حنوط (مردے کولگائی جانے والی خوشبو) دیکھی۔ ہم نے انہیں غسل دیا، کفن پہنایا اور نماز جنازہ پڑھ کر دفنا دیا۔ ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے: ’’اگرکبھی ہم اس طرف سے گزرے توان کی قبر پہچان لیں گے لیکن کچھ عرصے بعدجب اس مقام سے ہماراگزرہواتو وہاں نہ توکوئی قبر تھی اور نہ ہی کسی قبرکانشان ۔‘‘ (۲)
سیِّدُنا اُوَیس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کی سادگی:
(1570)…حضرت سیِّدُنا محارب بن دِثار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔکریم، رء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہیں جوبے لباس ہونے کے سبب مسجد میںیا نماز پڑھنے کی جگہ نہیں آسکتے۔ان کا ایمان انہیں لوگوں سے سوال کرنے سے روکے ہوئے ہے۔ اویس قرنی اور فرات بن حیان بھی انہیں میں سے ہیں۔‘‘ (۳)
(1571)…حضرت سیِّدُنا مغیرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی راہِ خدا میں اپنے کپڑے تک صدقہ کر دیتے اورخود بے لباس ہوکر (گھرمیں ) بیٹھ رہتے اور اتنا لباس بھی نہ پاتے کہ جسے پہن کرنمازِ جمعہ اداکرسکیں۔‘‘ (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الرقم:۲۰۷۶، اویس القرنی، ج۶، ص۲۰۶، بتغیر۔
2…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد اویس القرنی، الحدیث:۲۰۱۶، ص۳۴۶۔
3…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد اویس القرنی، الحدیث:۲۰۰۷، ص۳۴۲۔
4…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد اویس القرنی، الحدیث:۲۰۱۵، ص۳۴۵۔