اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! آپ بھی خود کوہلکاپھلکا رکھئے۔‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب ان کی یہ گفتگو سنی تواپنا درہ زمین پر مارا اور بلند آواز سے کہا: ’’اے کاش! عمر کو اس کی ماں نے نہ جنا ہوتا۔ اے کاش! وہ بانجھ ہوتی، اس نے حمل کی مشقت نہ اٹھائی ہوتی۔ سنو! (خلافت کی) ذمہ داری کون قبول کرے گا؟‘‘ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے عرض کی: ’’اے امیرالمؤمنین! آپ اپنا راستہ لیں اور میں اپنی راہ ہوتاہوں۔‘‘ چنانچہ، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مکہ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْمًا کی جانب تشریف لے گئے اور حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی اونٹ ہانک کر قبیلے والوں کی طرف چل دیئے۔ اونٹ مالکوں کے سپرد کرکے رخصت ہوگئے اور وصال فرمانے تک عبادت میں مصروف رہے۔
حضرت سیِّدُناشیخ حافظ ابونُعَیم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: خیرالتابعین حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کے بارے میں بالتفصیل یہی قصہ ہم تک پہنچا ہے۔ حضرت سیِّدُنا سلمہ بن شعیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ہم نے حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کی فضیلت کے متعلق بہت سی روایات لکھی ہیں لیکن اس سے بڑھ کرکامل وجامع کوئی روایت نہیں لکھی۔ (۱)
غم آخرت:
(1568)…حضرت سیِّدُناامام شعبی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں: قبیلہ مرادکاایک شخص حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کے قریب سے گزراتواس نے پوچھا: ’’آپ نے صبح کس حال میں کی؟‘‘ فرمایا: ’’میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمدوثناکرتے ہوئے صبح کی۔‘‘پوچھا: ’’آپ پر زمانہ کیسا گزرا؟‘‘ فرمایا: ’’ایسے شخص پر زمانہ کیسا گزرتا ہوگا کہ جوصبح کرے توشام کی امیدنہ ہو اور شام کرے تو صبح کی امید نہ ہو (اور یہ بھی نہیں جانتا کہ) جنتی ہے یاجہنمی۔ اے قبیلہ مراد کے شخص! بے شک موت اوراس کی یاد نے مومن کے لئے کوئی خوشی باقی نہیں چھوڑی اور حُقوقُ اللّٰہ کی معرفت نے اس کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کرے۔ ’’جنہیں بوجھل لوگ طے نہ کرسکیں گے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں:یعنی مال، حال، عزت وجاہ کے طالبین ان پہاڑوں کو بہ آسانی طے نہ کرسکیں گے۔ سفر میں جتنا بوجھ زیادہ اتنی ہی تکلیف زیادہ دنیا میں پھنسے ہوئے آدمی کو مرتے وقت نزع کی تکلیف کے علاوہ دنیا چھوٹنے کاغم ہوتا ہے جو بہت تکلیف کا باعث ہے۔
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۸۴۰، اویس بن عامر، الحدیث:۲۴۴۹، ج۹، ص۴۲۳۔۴۲۵۔