اویس قرنی کی کچھ علامات بتائیں ہیں۔ بالوں کی سرخی وسفیدی اور آنکھوں کی سرخی کو توہم نے پہچان لیا ہے اور ہمیں بتایا تھا کہ اس کے بائیں کاندھے کے نیچے برص کا داغ ہوگا، لہٰذا ہمیں دکھاؤ اگر واقعی یہ علامت تم میںپائی گئی تو پھر تم ہی اویس قرنی ہو۔‘‘ چنانچہ، جب انہوں نے اپناکاندھادکھایا تو نشانی دیکھ کردونوں حضرات بڑھ کربوسے لیتے ہوئے کہنے لگے: ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہی اویس قرنی ہیں۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی مغفرت فرمائے! ہمارے لئے دعائے مغفرت کیجئے!‘‘ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے کہا: ’’میں کسی مخصوص شخص کے لئے دعا نہیں کرتا بلکہ خشکی وتری میں جتنے بھی مسلمان مرد وعورت ہیں سب کے لئے دعا کرتا ہوں۔ اب جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ حضرات پر میرا حال آشکار فرما دیا اور میرا معاملہ ظاہرفرمادیا ہے توآپ بتائیے کہ آپ ہیں کون؟‘‘
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: ’’یہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں اورمیں علی بن ابی طالب ہوں۔‘‘ حضرت سیِّدُنااویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے جب یہ سنا تو فوراً باادب طریقے سے کھڑے ہوگئے اورسلام عرض کرتے ہوئے کہا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ دونوں کوامت کی جانب سے بہترین بدلہ عطافرمائے۔‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: ’’آپ کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے۔‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے! تم اسی جگہ ٹھہرو! میں مکہ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْمًا سے اپنے عطیات میں سے تمہارے لئے کچھ خرچہ اورزائد کپڑوں میں سے کچھ کپڑے لے کر آتا ہوں میرے اور تمہارے درمیان یہی جگہ مقرر ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے عرض کی: ’’اے امیرالمؤمنین ! میرے اور آپ کے درمیان کوئی وعدہ نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ آج کے بعد آپ مجھے نہیں پہچان سکیں گے رہا خرچہ اور کپڑے تو میں ان کا کیا کروں گا؟ کیاآپ مجھ پر اونی چادر وتہبند نہیں دیکھ رہے ؟ کیا یہ پرانی ہوگئی ہیں؟ کیا میرے جوتے نہیں دیکھ رہے؟ کیایہ پرانے ہوگئے ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ مجھے اونٹ چرانے کے عوض چاردرہم ملتے ہیں؟ آپ نے کب مجھے انہیں کھاتے دیکھا ہے؟ اے امیر المؤمنین ! میرے اور آپ کے سامنے سخت پہاڑ ہیں جنہیں بوجھل لوگ طے نہ کرسکیں گے (۱)۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃالمناجیح، جلد7، صفحہ38 پر ’’پہاڑ ہیں‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: یہاں پہاڑ سے مراد موت، قبر، حشر کی مشکلات ہیں۔ جن سے گزرنا بہت ہی مشکل ہے مگر اس پر آسان ہے جس پراللّٰہ کرم…