Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
134 - 603
کہ جنت میں داخل ہو جاؤ لیکن اویس قرنی سے کہا جائے گاکہ اے اویس! ٹھہرے رہواور شفاعت کرو۔ چنانچہ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قبیلہ ربیعہ ومضرکی تعدادکے برابرلوگوں کے حق میں ان کی شفاعت قبول فرمائے گا۔ اے عمر وعلی! تمہاری ان سے ملاقات ہو تو ان سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری مغفرت فرما دے گا۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا 10سال تک ان کی تلاش میں رہے لیکن ملاقات نہ ہوئی۔ چنانچہ، جس سال امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوا اس سال انہوں نے جبل ابوقبیس (پہاڑ) پر کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہا: ’’اے یمن سے حج کے لئے آنے والو! کیا تمہارے ساتھ قبیلہ مراد سے تعلق رکھنے والا اویس نامی شخص ہے؟‘‘ ایک لمبی داڑھی والے بوڑھے نے اٹھ کرکہا: ’’ہم نہیں جانتے کہ اویس کون ہے؟ ہاں! میرے ایک بھتیجے کا نام اویس ہے لیکن وہ گمنام و مفلس ہے اوراس قابل نہیں کہ اسے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس لایاجائے کیونکہ وہ ہمارا چرواہا ہے اورہمارے درمیان اس کاکوئی مقام ومرتبہ نہیں ہے۔‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے (حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کے معاملے کو) اس کے سامنے پوشیدہ رکھا گویا آپ کی مراد وہ نہیں ہے اوراس سے دریافت فرمایا: ’’تمہارا بھتیجا کہاں ہے؟ کیا وہ ہم سے زیادہ حقیر ہے؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’جی ہاں!‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا: ’’وہ کہاں ملے گا؟‘‘ عرض کی: ’’میدانِ عرفات میں پیلوکے درخت کے قریب۔‘‘
	چنانچہ، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سوار ہوکر جلدی جلدی عرفات پہنچے تو (دیکھاکہ) ایک شخص درخت کے نیچے کھڑانماز پڑھ رہا ہے اور اونٹ اس کے اردگرد چر رہے ہیں۔ آپ حضرات اپنی سواریوں کو باندھ کراس کی طرف بڑھے، سلام کیا حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے نماز مکمل کی اور سلام کا جواب دیا۔ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا: ’’تم کون ہو؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’اونٹوں کا چرواہا وقوم کا اجیر۔‘‘ فرمایا: ’’ہم تمہارے پیشے اورکاروبارکے بارے میں نہیں بلکہ تمہارا نام پوچھ رہے ہیں۔‘‘ عرض کی: ’’عبداللّٰہ۔‘‘ فرمایا: ’’ہمیں معلوم ہے کہ تمام زمین وآسمان والے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے ہیں۔ تمہاری والدہ نے تمہارا کیانام رکھا ہے؟‘‘ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے عرض کی: ’’آخر آپ حضرات کو مجھ سے کیا کام ہے؟‘‘ فرمایا: ’’حضورسیِّد دوعالم، نورمجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں