نہیں ہیں اور نہ ہی ہم اسے پہچانتے ہیں۔‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ہاں! وہ ایسا ہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ تم اس کی شان گھٹا رہے ہو۔‘‘ اس شخص نے کہا: ’’اے امیرالمؤمنین! ہمارے ہاں ایک شخص ہے جسے اویس کہتے ہیں۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اس سے ملاقات کرنا لیکن میرا خیال ہے کہ تم اسے نہیں پاسکوگے۔‘‘
چنانچہ، وہ شخص اپنے وطن روانہ ہوگیا اور گھرجانے سے پہلے حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کے پاس آیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے (اس کی سنجیدگی دیکھ کر) پوچھا: ’’کیا بات ہے تم ایسے تو نہ تھے؟‘‘ اس نے کہا: ’’میں نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یوں، یوں فرماتے سنا ہے۔ لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے!‘‘ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’میں تمہارے لئے اس وقت تک دعا نہیں کروں گا جب تک تم مجھ سے وعدہ نہ کرو کہ آج کے بعدمیرا مذاق نہیں اڑاؤ گے اور امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے میرے متعلق جو کچھ سنا ہے کسی سے ذکر نہیں کرو گے۔‘‘ چنانچہ، (اس شرط پر) آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کے لئے دعائے مغفرت فرمائی۔ حضرت سیِّدُنا اُسَیْر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: کچھ ہی عرصے بعد کوفہ میں حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کا چرچا ہوگیا۔ میں نے ان کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی: ’’اے میرے بھائی! آپ کے متعلق تعجب خیز باتیں پھیلی ہوئی ہیں جبکہ ہم ان سے ناواقف تھے۔‘‘ تو انہوں نے فرمایا: ’’اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو میں نے لوگوں تک پہنچائی ہو ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا۔‘‘ اس کے بعد حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی وہاں سے کوچ کرگئے۔ (۱)
سیدنا اُوَیس قرنی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کی صفات:
(1567)…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک بار حضورنبی ٔرحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھے کہ ارشاد فرمایا: ’’کل تمہارے ساتھ ایک جنتی شخص نماز ادا کرے گا۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’میں نے خواہش کی کہ وہ میں ہی ہوں۔‘‘ چنانچہ، اگلے روز میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اقتدا میں نماز ادا کی اور مسجد میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل اویس القرنی، الحدیث:۲۵۴۲، ص۱۳۷۵، باختصار۔